خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 244

خطبات محمود ۲۴۴ سال ۱۹۳۷ء کے جوش کا اظہار تھا۔پس اگر وہ رُکی ہوگی تو اپنی مرضی سے یا مصری صاحب کے روک دینے کی وجہ سے۔چنانچہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ باوجود اس کے کہ بعض دکانداروں کو انہیں سو دا دینے کی اجازت ہے پھر بھی وہ انہیں سو دانہیں دیتے کیونکہ ان کی ایمانی غیرت یہ برداشت نہیں کرتی کہ ایسے شخص کو سودا دیں جو خلافت سے غداری کا مرتکب ہوا ہے۔لیکن باوجود اس کے اگر کوئی دکاندار انہیں کوئی ایسا سودا نہ دے جس کے متعلق مجھے یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ قادیان میں کسی اور جگہ سے نہیں مل سکتا تھا تو یقیناً میں ایسے دکاندار کو سزا دوں گا۔پس ان کا تمام غیر احمدیوں ، سکھوں اور ہندوؤں کو چھوڑ کر صرف احمدی دکانداروں سے سو دا کرنے کی کوشش کرنا سوائے اس کے کوئی معنے نہیں رکھتا کہ وہ ان میں سے کسی منافق کے ذریعہ سے دوسرے ان لوگوں سے جن کے بارہ میں انہیں دعوئی ہے کہ ہمارے ساتھ ہیں تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں۔اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ پوشیدہ لوگ اگر کوئی ہیں تو ظاہر ہو جائیں۔اسی طرح وہ کہتے ہیں مزدوروں کو کام کرنے سے روکا گیا۔لیکن ناظر صاحب امور عامہ کی رپورٹ یہ ہے کہ انہیں تحقیق کے باوجود اس میں صداقت معلوم نہیں ہوئی۔اسی طرح کہتے ہیں میری پوتی کا دودھ بند کر دیا گیا۔اس کے متعلق ناظر صاحب نے انہیں لکھا کہ آپ بتائیں آپ کے ہاں کون عورت دودھ لایا کرتی تھی تاہم اس سے دریافت کر سکیں کہ اسے دودھ دینے سے کس نے روکا۔مگر انہوں نے اس عورت کا نام بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ہاں میر محمد الحق صاحب نے بیان کیا ہے کہ جو عورت ان کے ر دودھ دیتی ہے اس سے معلوم ہوا ہے کہ وہی مصری صاحب کے ہاں دودھ دیتی رہی ہے اور وہ کہتی ہے کہ مجھے کسی نے دودھ دینے سے نہیں روکا بلکہ ایک دوست نے بتایا ہے کہ وہ اب تک انہیں دودھ دیتی ہے۔غیر احمدی ملازمہ کو کام سے روکنا بھی ہماری تحقیق میں بالکل غلط ہے۔بایں ہمہ میں سمجھتا ہوں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص نے غیر احمدی ملازمہ کو ان کے ہاں کام کرنے سے روکا تو میں یقیناً اسے سزا دوں گا کیونکہ غیر احمد یوں کو روکنے کا ہمیں کوئی حق نہیں مگر اس کیلئے ثبوت چاہئے جو ابھی تک میرے سامنے پیش نہیں ہوا۔یہ کہنا کہ ” میرے اوپر چند لونڈے مسلط کئے ہوئے ہیں کہ جدھر میں جاؤں وہ سایہ کی طرح کی میرے پیچھے جائیں۔اس کے متعلق دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسلط کے کیا معنے ہیں۔کیا وہ ڈنڈے مارتے ہیں یا گالیاں دیتے ہیں یا کہیں جانے نہیں دیتے ؟ اگر کچھ بھی نہیں کرتے صرف انہیں