خطبات محمود (جلد 18) — Page 243
خطبات محمود ۲۴۳ سال ۱۹۳۷ء اہے دینیات پڑھانے والا انہیں اور کوئی نظر آئے لیکن ان کی یہ ضرورت بھی خود اپنے اندر سے پوری ہو سکتی ہے یعنی مصری صاحب یہ کام کر سکتے ہیں۔پس صرف تین چیزیں ایسی تھیں جو یہاں انہیں غیروں سے نہیں مل سکتی تھیں مگر یہ تینوں چیزیں خودان کے پاس موجود ہیں۔طبیب ان کا اپنا ہے۔احمد یہ لٹریچر ان کے پاس ہے اور دینیات کا مدرس ان میں موجود ہے گویا وہ Self-Contained ہیں پھر انہیں شکوہ کس بات کا ہے۔اگر باوجود اس کے وہ ہماری جماعت کے کسی فرد کی دُکان سے سو دا خریدنا چاہتے اور اس پر اصرار کرتے ہیں تو یہ تو ویسی ہی تہی بات ہے جیسے ہمارا کوئی دشمن کہے کہ میں دھوپ سے بچنا چاہتا ہوں اور اس کیلئے سب گھر چھوڑ کر تمہاری ہی ڈیوڑھی میں آکر بیٹھوں گا۔ہر شخص اس خرید و فروخت کو دیکھ کر کہے گا کہ کسی خاص احمدی دکاندار سے سو دا خرید نے پر اصرار کرنا بھید سے خالی نہیں۔اور وہ بھید سوائے اس کے کیا ہوسکتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں اپنے ہم خیال لوگوں کی خفیہ پارٹی بناتے جائیں۔چنانچہ اشتہار میں بھی انہوں نے لکھا ہے کہ مجھ سے لوگوں کو ملنے نہیں دیا جا تا تا کہ کوئی شخص مجھ سے مل کر اصل حقیقت سے واقف نہ ہو جائے۔حالانکہ اصل حقیقت سے وہ اشتہاروں سے واقف کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔پس ان کا اصل شکوہ یہ نہیں کہ ی دُکانداروں سے سو دا دینے سے کسی نے منع کیا ہے یا ضروریات زندگی کے حصول سے وہ محروم ہو گئے ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس طریق پر ان لوگوں سے جو ابھی خفیہ ہیں اپنی ملاقات کا جی راستہ کھولیں اور ایک خفیہ جماعت قائم کریں۔پھر انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بھنگن کو ان کے گھر کام کرنے سے روک دیا گیا۔اس کے متعلق ناظر صاحب امور عامہ نے سپرنٹنڈنٹ بورڈ نگ کو بلایا اور اس کے ذریعہ بھنگن کے خاوند کو بلایا گیا اور پھر بھنگن کو بلا کر سب کی موجودگی میں پوچھا گیا کہ تجھے کس نے کام کرنے سے روکا تھا ؟ تو اس نے ایک لڑکے کا نام لیا کہ اس نے مجھے روکا تھا۔اب وہ لڑکا کوئی افسر نہ تھا کہ اس کے روکنے پر وہ رُک جاتی۔وہ ناظر نہ تھا ، وہ خلیفہ نہ تھا، وہ محض ایک لڑکا تھا۔اس کے منع کرنے سے اُس کا رُک جانا اول تو خود غلطی ہے دوسرے اس لڑکے کو بلا کر جب دریافت کیا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں نے اسے روکا نہیں تھا میں نے اسے یہ کہا تھا کہ کیا تم اب تک ان کا کام کرتی ہو؟ بیشک یہ فقرہ ایسا تھا جس سے یہ استنباط ہو سکتا تھا کہ کی اسے یہاں کام نہیں کرنا چاہئے مگر یہ کسی ذمہ دار کا حکم نہیں تھا کہ وہ رُک جاتی بلکہ صرف ایک طالب علم