خطبات محمود (جلد 18) — Page 232
خطبات محمود ۲۳۲ سال ۱۹۳۷ء سے۔فضل سے ہماری جماعت قائم رہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں۔معلوم ہوتا ہے یہ جماعت بہر حال صداقت پر قائم رہے گی اور بڑھے گی اور بڑھتی چلی جائے گی اور اس کی کے تمام دشمن ناکام و نامرادر ہیں گے تو ان کا یہ کہنا کہ میں بیعت سے نکلا ہوں جماعت سے نہیں نکلا ، اس سے زیادہ بیوقوفی اور حماقت کی بات اور کم ہی ہوگی۔خود رسول کریم ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے اسلام اور جماعت میں فرق کیا ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لانا اسلام پر ایمان لانا ہے اور جو شخص آپ پر ایمان نہیں لاتا وہ مومن نہیں کہلا سکتا۔لیکن آپ فرماتے ہیں مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَلَيْسَ مِنَّا ہے کہ جوشخص جماعت سے بالشت بھر بھی علیحدہ ہوا وہ ہم میں سے نہیں۔اب یہاں رسول کریم ﷺ نے دو چیزیں علیحدہ علیحدہ بیان فرمائی ہیں۔ایک اسلام اور ایک جماعت۔اگر فَلَيْسَ مِنَّا سے مراد صرف جماعت ہی لی جائے تو یہ کہنا کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی علیحدہ ہوا وہ جماعت سے علیحدہ ہوگیا، بے معنی فقرہ ہو جاتا ہے۔جو شخص جماعت سے بالشت بھر الگ ہو جائے وہ بہر حال الگ ہو جاتا ہے اس کیلئے فَلَيْسَ مِنَّا کہنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہا جائے کہ جو مر گیا سو مر گیا۔جو مر جاتا ہے وہ بہر حال مر جاتا ہے۔اس کیلئے سومر گیا“ کہنا بے معنی ہے۔یا کہا جائے جس نے روٹی کھالی سوکھالی۔جو سو گیا سو سو گیا۔جس طرح ان فقروں کا کوئی مفہوم نہیں۔اسی طرح اگر فَلَيْسَ مِنَّا کے یہی معنے سمجھے جائیں کہ وہ جماعت سے الگ ہو گیا تو فقرہ یوں بن جاتا ہے کہ جو جماعت سے الگ ہو گیا وہ جماعت نے سے الگ ہو گیا۔لیکن میں جیسا کہ بتا چکا ہوں یہ بے معنی فقرہ ہو جاتا ہے۔پس حقیقتا اس کے معنے یہی ہیں کہ وہ شخص جو جماعت سے بالشت بھر بھی علیحدہ ہو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کا وجود ایمانیات میں شامل ہے سے علیحدہ ہوتا ہے۔پس جماعت اور اسلام کو کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ بیان کیا ہے مگر ساتھ ہی فرما دیا کہ جماعت سے الگ ہونا کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ جو شخص جماعت سے الگ ہوتا ہے اس کے اسلام میں بھی رخنہ پڑ جاتا ہے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی جُدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ اسلام تمدنی مذہب ہے اور اس کے بہت سے احکام ایسے ہیں جو جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔اور اگر کوئی شخص جماعت سے الگ ہو جائے تو وہ ان احکام کی پابندی نہیں کر سکتا۔یہی دیکھ لو اس زمانہ میں ہمیں حکم ہے کہ ہم احمدیت کی تبلیغ دنیا کے