خطبات محمود (جلد 18) — Page 206
خطبات محمود ۲۰۶ سال ۱۹۳۷ء منافق کہہ سکے۔یہ کمز ور طبع لوگ گو یا منافقوں کے امام ہوتے ہیں۔الْإِمَامُ جُنةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ منافق کیلئے یہ ڈھال کا کام دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے کوئی کسی منافق پر اعتراض نہیں کر سکتا۔یہ لوگ اپنی بدقسمتی کی وجہ سے منافق کیلئے ڈھال بن جاتے ہیں اور ہمیشہ یہی لوگ فتنوں کولمبا کرنے کا موجب ہوا کرتے ہیں۔بظاہر یہ نرم دل اور رحم دل مصلح سمجھے جاتے ہیں۔حالانکہ یہ ان کی کمزوری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے میں نے بار ہاسنا ہے اور سینکڑوں صحابہ ابھی ہم میں ایسے زندہ ہیں جنہوں نے سنا ہوگا کہ آپ فرمایا کرتے تھے بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی طبیعت کی افتاد کی وجہ سے کوئی صحیح طریق اختیار نہیں کر سکتیں۔باوجود اپنی نیک نیتی اور نیک ارادوں کے آپ فرما یا کرتے تھے کہ ایک شخص تھا اُس نے کسی دوست سے کہا کہ میری لڑکی کیلئے کوئی رشتہ تلاش کرو۔کچھ روز کے بعد اُس کا دوست آیا اور کہا میں نے موزوں رشتہ تلاش کر لیا ہے۔اُس نے پوچھا لڑکے کی کیا تعریف ہے؟ وہ کہنے لگا لڑکا بڑا ہی شریف اور بھلا مانس ہے۔اس نے کہا کوئی اور حالات اس کے بیان کرو۔اس نے جواب دیا بس جی اور حالات کیا ہیں، بے انتہا بھلا مانس ہے۔پھر اس نے کہا کہ کوئی اور بات اس کی بتاؤ۔اس نے جواب دیا کہ اور کیا بتاؤں بس کہ جود یا کہ وہ انتہا درجہ کا بھلا مانس ہے۔اس پر لڑ کی والے نے کہا میں اس سے رشتہ نہیں کر سکتا جس کی تعریف سوائے بھلا مانس ہونے کے اور ہے ہی نہیں۔کل کو اگر کوئی میری لڑکی کو ہی لے جائے تو وہ اپنی بھلا مانسی میں ہی پچر کا بیٹھا رہے گا۔تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں صرف بھلے مانسی ہی ہوتی ہے، غیرت اور دین کا جوش نہیں پایا جاتا۔وہ بوجہ نیک نیت ہونے کے مومن تو ضرور کہلاتے ہیں مگر ان کی بھلے مانسی خودان کے لئے اور جماعت کیلئے بھی مُضر پڑا کرتی ہے۔ان مختلف الخیال لوگوں میں سے جن میں سے پہلے خیال کے لوگ جماعت میں بہت زیادہ ہیں اور جن کی طرف سے درخواستیں آرہی ہیں کہ ایسے لوگ اگر جماعت میں اور بھی ہوں تو ان کو بھی نکال دیا جائے ، ان کو میں مطلع کرتا ہوں کہ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب میں ایسے سب لوگوں کو جن کا جرم ثابت ہو نکالتا جاؤں گا اب ان پر رحم کرنا جماعت کے ساتھ دشمنی ہے مگر ایسے لوگوں کے خلاف ثبوت ضرور چاہئے۔وہ دوست جو مجھے ایسے مشورے لکھ کر بھیجتے ہیں انہیں چاہئے کہ ایسے امور مجھ تک پہنچا ئیں۔ثبوت کے بغیر میں کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا کیونکہ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔