خطبات محمود (جلد 18) — Page 168
خطبات محمود ۱۶۸ ΙΔ سال ۱۹۳۷ء نماز با جماعت پڑھنے کی سخت تاکید ولی کی رضامندی کے بغیر کوئی نکاح نہیں ہو سکتا چندوں کے متعلق ایک اعتراض کا جواب فرموده ۱۸ جون ۱۹۳۷ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- دو تین سال ہوئے میں نے قادیان کی تنظیم مساجد کے مطابق کرنے کے متعلق بعض ہدایات دی تھیں اور میری غرض اس تنظیم سے یہ تھی کہ ایک تو نماز با جماعت جو اسلام کا نہایت ہی اہم اصل ہے اور جس کے بغیر انسان مومن ہی نہیں ہو سکتا اس کی طرف جماعت کو زیادہ توجہ ہو جائے۔اور دوسرے لوگوں کا اجتماع خدا کے گھر میں پانچ اوقات میں ایسی طرز پر ہو کہ سلسلہ کے کارکن انہیں دین کے متعلق واقفیت بہم پہنچاتے ہوئے ضروری مسائل سے آگاہ رکھ سکیں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں پہلے زمانہ کی نسبت تو اس انتظام کے بعد نماز باجماعت کی ادائیگی میں ترقی نظر آتی ہے لیکن جو دوسری غرض تھی کہ اس کی اجتماع کو دینی واقفیت اور تربیت کا ذریعہ بنایا جائے ، مجھے اس میں بہت سی کمی دکھائی دیتی ہے اور مساجد کے اجتماع سے محلے والے وہ فائدہ نہیں اُٹھاتے جو انہیں اُٹھانا چاہئے اور نہ وہ نفع حاصل کرتے ہیں جس