خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 164

خطبات محمود ۱۶۴ سال ۱۹۳۷ء او پر لے لیتا اور بنی بنائی سکیم کو بگاڑ دیتا ہے۔پس میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری یہ باتیں سمجھنی مشکل نہیں۔تم میں سے جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ یہ باتیں مشکل ہیں اور جلدی سمجھ میں نہیں آسکتیں وہ کوئی آٹھ دس سال کا بچہ میرے سامنے لے آئے ، میں اُسے یہ تمام باتیں سمجھا کر بتا دیتا ہوں۔پھر اتنی وضاحت کے بعد بھی اگر تم لوگ نہ سمجھو تو سوائے اس کے اور کیا معنے ہوں گے کہ تم چاہتے ہی نہیں کہ سمجھو اور میری باتوں پر عمل کرو۔میں سوئے ہوئے کو تو جگا سکتا ہوں مگر جو جاگ رہا ہو اور یونہی آنکھیں بند کر کے پڑا ہوا ہو، اُسے کس طرح جگا سکتا ہوں۔اس کے متعلق تو میرے پاس سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ میں خدا سے ہی کہوں کہ خدایا! مجھے اس نادان دوست سے بچا کہ یہ میرے کام میں روک بنا ہوا ہے۔الفضل ۵ جون ۱۹۳۷ء) بخارى كتاب الجهاد باب يقاتل من وراء الامام ويتقى به التوبة: ٦١ ۴۳، تاریخ ابن اثیر جلد ۳ صفحه ۳۳۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء