خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 163

خطبات محمود ۱۶۳ سال ۱۹۳۷ء کیا۔میں بتا چکا ہوں کہ یہ کوئی سوال نہیں کہ نعرہ کیا لگایا گیا اور میں تو یہاں کے لوگوں کے خطوں کو پڑھ پڑھ کر سفر میں حیران ہوتا رہا کہ یہ کیا لکھا ہوتا ہے کہ پولیس کا الزام غلط ہے۔ایک شخص نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا لیکھرام مُردہ باد کا نعرہ اس نے نہیں لگایا ، مجھے ان دونوں فقرات میں فرق تو نظر آتا ہے مگر مجھے ان میں سے کسی کے جواز کی بھی دلیل نظر نہیں آتی۔میرے نزدیک تو یہ کہنا کہ لیکھر ام مُردہ باد ہم نے نہیں کہا مرزا غلام احمد زندہ باد ہم نے کہا۔ویسی ہی بات ہے جیسے میری ایک بھانجی کو ایک اُستادی پڑھایا کرتا تھا۔بچی بہت چھوٹی تھی۔اُسے آداب کا کوئی پتہ نہ تھا۔ایک دن اس نے کسی لڑکی کے منہ سے گدھی کا لفظ سنا اسے یہ لفظ بہت پسند آیا اور جب اُستاد سے پڑھانے آیا اور کسی بات پر ناراض ہوا تو وہ کہنے لگی ددھی ، یعنی تو گدھی ہے بوجہ زبان کے صاف نہ ہونے کے گدھی کی جگہ اُس نے ددھی“ کہا۔اُستاد نے اس کے والد کے پاس شکایت کی کہ آپ کی لڑکی نے آج مجھے گدھی کہا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کی اس نے کہیں سے گدھی کا لفظ سنا ہے اور اب یہ گالی اس کی زبان پر چڑھ گئی ہے۔باپ نے لڑکی کو بلا یا۔چونکہ واقعہ تازہ ہی تھا اس لئے وہ سمجھ گئی کہ ضرور اس بات کی وجہ سے مجھے بلایا گیا ہے۔وہ ڈرتی ڈرتی اور کانپتی کانپتی آئی اور کہنے لگی ددھی نہیں ددھا یعنی میں نے گدھی کہنے میں غلطی کی اصل میں مجھے گدھا کہنا چاہئے تھا۔اُس نے سمجھا شاید غلطی اس میں ہوئی ہے کہ میں نے مرد کو گدھی کہ دیا حالانکہ اسے گدھا کہنا ہی چاہئے تھا اور اسے یہ خیال ہی نہ آیا کہ مجھے ان میں سے ایک لفظ بھی نہیں کہنا چاہئے تھا۔یہی مثال اس شخص پر صادق آتی ہے جس نے یہ حرکت کی ہے۔اس موقع کے لحاظ سے یہ دونوں فقرے جو زیر بحث ہیں نامناسب تھے اور نہیں کہنے چاہئیں تھے۔پس تم اپنے جذبات کو روکنے کی عادت ڈالو اور لوگوں کے احساسات کا خیال رکھو۔اب یہ ہوتا ہے کہ ہم انتہائی کوشش کر کے دشمن کو جب اس مقام پر لے آتے ہیں جہاں وہ مجرم ثابت ہونے والا ہوتا ہے اور اس کی سو گالیاں پکڑ لیتے ہیں تو جھٹ تم میں سے ایک شخص کوئی سخت لفظ کہ دیتا ہے اور خواہ وہ گالی نہ ہو حض ایک سخت لفظ ہو حکومت ان کی سو گالیوں کو پرے پھینک کر کہہ دیتی ہے کہ آپ کے آدمی نے بھی یہ گالی دی ہے۔پس تمہارے اس ایک آدمی کی غلطی کی وجہ سے کی حکام ایک عرصہ تک یہی دُہراتے چلے جاتے ہیں کہ آپ کے آدمی نے بھی یہی بات کہی تھی اور اس طرح ہماری ساری سکیم تم میں سے ایک شخص جوش میں آکر تباہ کر دیتا ہے اور جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں اب ضرب لگانے کا وقت ہے، ہماری جماعت کا کوئی شخص اپنی بیوقوفی سے اُس ضرب کو اپنے