خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 132

خطبات محمود ۱۳۲ سال ۱۹۳۷ء سیاسی اختلاف یا کسی ذاتی کمزوری کی وجہ سے جو بعض طبائع میں پائی جاتی ہے ان کو ایسی فضا میسر آگئی ہے کہ ایسے حکام کو اپنے ساتھ شامل کر کے جماعت کے راستے میں مشکلات پیدا کریں۔دو اڑھائی سال کے اختلاف کے بعد کسی قدر کمی پیدا ہوئی تھی لیکن مہینہ دو مہینہ سے اس میں پھر کسی قدر حرکت معلوم ہوتی ہے۔میں نے بارہا اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے کہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اَلْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ امام کے بنانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈھال کے طور پر ہوتا ہے اور جماعت اس کے پیچھے لڑتی ہے۔یہ جائز نہیں کہ جماعت کے لوگ خود لڑائی چھیڑ دیں۔اعلانِ جنگ امام کا کام ہے اور وہ جس امر کے متعلق اعلان کرے جماعت اُس طرف متوجہ ہو۔مگر کئی دوست نہیں سمجھتے اور جھٹ ہر امر پر اظہار خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات دشمن اس سے کی چڑ کر شدت سے گالیاں دینے لگ جاتا ہے اور چھوٹی سی بات بہت بڑی بن جاتی ہے اور پھر ساری جماعت اس میں ملوث ہو جاتی ہے۔ایک عام آدمی جس کو خدا تعالیٰ نے اختیار نہیں دیا ہوتا نہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ سلسلہ کی ضرورتیں کیا ہیں نہ اُس کو کسی سکیم کا پتہ ہوتا ہے ، نہ دشمن کی چالوں کو سمجھتا ہے، نہ اسے یہ علم ہوتا ہے کہ طاقت کہاں کہاں خرچ کرنی ہے، نہ جماعت کی ضرورتیں اور ترقی کی سکیمیں اُس کے ذہن میں ہوتی ہیں ، نہ اس کے علم میں ہوتا ہے کہ خلیفہ کی اس امر کے متعلق کیا تجویز میں ہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی رپورٹیں نہیں پہنچتیں اور نہ حالات کا اُس کو علم ہوتا ہے۔وہ اپنی حماقت سے ایک چنگاری چھوڑ دیتا یا دشمن کی لگائی ہوئی آگ کو اپنی پھونکوں سے روشن کر دیتا ہے اور پھر ساری جماعت کو اسے بجھانا پڑتا ہے۔خلیفہ کو اپنی سکیمیں پیچھے ڈالنی پڑتی ہیں اور جماعت کی ساری طاقت اس شخص کی بھڑ کائی ہوئی آگ کے بجھانے میں صرف ہو جاتی ہے۔۔میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے امور میں قطعی طور پر امام کی اتباع کی جائے۔اب کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو لوگ بیعت میں اقرار کریں کہ ہم آپ کی اطاعت کریں گے اور دوسری طرف اپنی جھوٹی عزت کا خیال کرتے ہوئے اور امام کے اعمال کی حکمت کو نہ سمجھتے ہوئے یہ خیال کریں کہ اگر امام گالی کا جواب نہیں دیتا تو اُس کی بے غیرتی ہے۔حالانکہ امام خوب سمجھتا ہے کہ فلاں جگہ کی