خطبات محمود (جلد 18) — Page 13
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء والوں کا ایک حصہ وہاں سے بھاگ کر نکل گیا اور کم سے کم ایک شخص تو جاپانی ، انگریزی اور روسی فوجوں سے بچتا ہو اجرمنی جا پہنچا اور پھر جنگ میں شریک ہو گیا جو ابھی جاری تھی۔جس وقت جہاز تباہ ہوا وہ اگر پیشاب خطا کر کے بیٹھ جاتے تو پکڑے جاتے مگر انہوں نے جرات کی اور بیچ کر نکل گئے۔انہوں نے اپنے حیرت انگیز حالات بیان کئے ہیں کہ وہ کس طرح بچ کر نکل گئے اور پھر لڑائی میں شامل ہو گئے۔فرانس اور اٹلی وغیرہ سب ممالک کے لوگوں نے ایسے کارنامے دکھائے۔بعض قید ہو گئے اور سات سات سال قید رہے۔اب بھی کئی قیدی ہیں جو جیل خانوں میں ہی مر جاتے ہیں مگر کئی ہیں جو دو چار ماہ بعد ہی بھاگ نکلتے ہیں۔پس اگر انسان حوصلہ نہ ہارے تو سو راہیں نکل آتی ہیں اور ہمارے لئے تو ایک راستہ بناتی بنایا ہے ہم دعا تو کر سکتے ہیں۔میں اس وقت جماعت کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس زمانہ میں پھر دنیا میں شدید تغیرات پیدا ہورہے ہیں اور عنقریب شدید لڑائی لڑی جانے والی ہے جو انگریزوں و جرمنوں کی گزشتہ جنگ سے بھی سخت ہوگی۔یہ اس وقت تک اس وجہ سے رُکی ہوئی ہے کہ انگریز ابھی تیار نہیں۔اگر تیار ہوتے تو اٹلی نے جس وقت حبشہ پر حملہ کیا تھا اُسی وقت جنگ چھڑ جاتی۔جنگ عظیم کے بعد انگریز بیچارے تو صلح صلح پکارتے رہے اور یورپ کی دوسری قومیں اپنی فوجی طاقت کو بڑھاتی رہیں اور اب نتیجہ یہ ہے کہ اٹلی جو چھوٹا سا ملک ہے خم ٹھونک کر چیلنج دے رہا ہے اور انگریز خاموش ہیں۔اس کی یہ وجہ نہیں کہ انگریزی لڑنا نہیں چاہتے۔بیشک انگریزوں میں بعض ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر جرمنی انگلستان پر بھی قبضہ کرے تو کیا۔ایک اور لیبر لیڈر نے تو اس قسم کی ایک تقریر حال میں ہی کی ہے مگر بعض ایسے بھی تھے جو محسوس کر رہے تھے کہ ہماری ذلت ہو رہی ہے لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر لڑائی ہوئی تو اس سے بھی زیادہ ذلت ہوگی۔اُس وقت سے انگریز بھی برابر سامان جنگ بڑھا رہے ہیں مگر جرمنی اور اٹلی بھی اب بہت ج سمجھدار ہورہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ انگریز ۱۹۳۷ء کے آخر تک نہیں لڑ سکتے اس لئے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔گو یہ بھی ممکن ہے کہ اگر بہت زیادہ مجبور کیا جائے تو برطانوی حکومت ۱۹۳۷ ء میں ہی لڑ پڑے لیکن یوں حکومت کا پروگرام ۱۹۳۸ء میں پورا ہو گا۔اب سینیا کے بعد اٹلی نے سپین میں سوال اُٹھا دیا ہے۔انگریزی اخبارات کے بیان کے مطابق اٹلی والوں کا ڈھنگ عجیب ہے۔وہ ایک کام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ صلح کی ہر مجلس میں بھی شریک ہوتے ہیں اور جب صلح کی تجاویز ان کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تو