خطبات محمود (جلد 18) — Page 12
خطبات محمود ۱۲ سال ۱۹۳۷ء نہ ہواس کی اصلاح کیسے کر سکتے ہو۔ہم نے اپنے زور سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑا کا کیا ہے۔حیات مسیح کے عقیدہ کو بدل دیا ہے، قرآن کریم کے نسخ کے خیالات کو بدل دیا ہے۔عیسائی ممالک میں بائبل کے متعلق عیسائیوں کے خیالات میں تبدیلی پیدا کر دی ہے مگر ابھی یہ کام ایسا ہی ہے جی جیسے سمندر کے مقابلہ میں کنواں۔ہمارا تعلق ساری دنیا سے ہے اس لئے ہمیں سوچنا چاہئے کہ دنیا کو ان مختلف بلاؤں سے کس طرح نجات دلائی جاسکتی ہے جو اس پر نازل ہورہی ہیں۔اگر اس خیال سے کہ ی ہمارے پاس طاقت نہیں بیٹھ جائیں تو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک میراثی بریکا ررہنے کا عادی تھا۔اُس کی بیوی ہمیشہ اُسے کہتی کہ کوئی کام کرو مگر وہ جواب دیتا کہ کام ملتا نہیں۔آخر جنگ شروع ہوئی اور لوگ بھرتی ہونے لگے۔اُس کی بیوی اوی نے کہا کہ جاؤ تم بھی فوج میں بھرتی ہو جاؤ۔وہ کہنے لگا کہ بیویاں تو اپنے خاوندوں کی خیر خواہ ہوتی ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ تم میری دشمن ہو اور چاہتی ہو کہ میں لڑائی میں شامل ہوں اور مارا جاؤں۔اُس کی بیوی نے کچھ چنے لئے اور انہیں چکی میں پینے لگی۔بعض اوقات چکی میں کسی جگہ آتا جمع ہو جائے تو سل اونچی ہو جاتی ہے اس لئے بعض دانے ثابت ہی نکل آتے ہیں۔میراشن نے اپنے خاوند کو بلایا اور کہا کہ دیکھو جسے خدا بچانا چاہے وہ چکی کے پاٹ میں سے بھی سلامت نکل آتا ہے اس لئے تم کیوں یہ خیال کرتے ہو کہ ضرور مارے جاؤ گے؟ اس پر میراثی نے جواب دیا کہ ” تو مینوں دلیاں ہویاں وچه ای سمجھ لئے، یعنی تو میرا شمارا نہی دانوں میں کر جو پیسے جاچکے ہیں۔تو اس قسم کے خیال وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنا شمار پہلے ہی پسے ہوؤں میں کر لیتے ہیں۔جنگ عظیم میں بعض انگریزی فوجوں کے آدمی وسط جرمنی میں جا کر قید ہوئے اور پھر ساری فوجوں اور حفاظتوں سے بچتے ہوئے بھاگے اور اپنے ملک میں سلامت پہنچ گئے۔ایمڈن جرمنی کا ایک چھوٹا سا جہاز تھا جس نے مدراس پر آکر گولہ باری کی۔ہندوستانی چونکہ جنگی فنون سے بالکل نا واقف ہیں اس لئے جب ایمڈن نے مدراس پر گولہ باری کی تو باوجود یکہ مدراس یہاں سے بارہ سو میل دور ہے، پنجاب کی عورتوں کے دل دھڑ کنے لگے تھے۔اس جہاز کو آسٹریلیا کے قریب جا کر انگریزی علاقہ میں اور انگریزی جزیرہ میں انگریزی فوجوں نے تباہ کیا۔وہ ملک انگریزوں کا تھا۔اس کے ایک طرف جاپان تھا تی جو انگریزوں سے ہمدردی رکھتا تھا دوسری طرف روس تھا جو خود جنگ میں شامل تھا مگر پھر بھی ایمڈن