خطبات محمود (جلد 18) — Page 118
خطبات محمود ۱۱۸ سال ۱۹۳۷ء اور نئی قسم کا دل و دماغ لے کر آتا ہے؟ جسمانی لحاظ سے مومن اور منافق میں کوئی فرق نہیں ہوتا بالکل باریک فرق ہے پلِ صراط کی طرح۔جب انسان ایمان سے ذرا ادھر ہو تو منافق بن جاتا ہے۔اچھی طرح یا درکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کیلئے کام کرتا ہے وہ مومن ہے اور جس کے کام میں نفس کی ملونی ہے وہ منافق ہے۔ایک شخص بہت عبادت گزار اور نیک کام کرنے والا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کی ڈیوڑھی پر پہنچ جاتا ہے مگر منافقت اُس کے دل کے پردوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اُسے کوئی کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں نے بڑی خدمت کی مگر میری کوئی قدر نہیں کی گئی اور اُس کی منافقت ظاہر ہو جاتی ہے۔وہ اپنی پہلی حالت میں بھی منافق تھا اور اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ منافق ہے۔مگر پہلے اُس کا نفاق ایمان کے لباس میں چھپا ہو ا تھا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک جنگ میں ایک شخص بڑے جوش اور زور کے ساتھ اسلامی لشکر کی طرف سے لڑ رہا تھا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس نے کسی جہنمی کو روئے زمین پر چلتے پھرتے دیکھنا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔صحابہ اس بات کو سُن کر حیرت میں پڑ گئے اور بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اتنی قربانی کرنے والا بھی جہنمی ہے تو پھر ہمارا کیا حال ہوگا۔بعض نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کو غلط رپورٹیں پہنچائی گئی ہیں۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا افسوس ہے لوگ رسول کریم ہے کی بات میں شک کرتے ہیں اور میں اس شخص کے ساتھ رہوں گا تا اس کا انجام دیکھ سکوں۔وہ اس کے ساتھ ساتھ رہے اور بیان کرتے ہیں کہ اس نے اس قدر شدید لڑائی کی کہ دشمن کے چھکے چھڑا دیئے۔آخر وہ زخمی ہو کر گرا اور شدت درد سے کراہ رہا تھا۔کئی صحابہ جو نہ جانتے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق کیا فرمایا ہے یا جانتے تو تھے مگر سمجھتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کو غلط رپورٹیں پہنچائی گئی ہیں ، وہ آتے اور اُسے کہتے ابشر بالجَنَّةِ تمہیں جنت کی بشارت ہو۔مگر وہ جواب دیتا کہ ابشِرُونِی بِالنَّارِ مجھے دوزخ کی خبر دو۔اس پر وہ صحابہ حیران ہوتے اور کہتے کہ یہ کیا کہ رہے ہو تم نے اسلام کیلئے اتنی قربانیاں کی ہیں۔مگر وہ جواب دیتا کہ میں نے اسلام کیلئے کوئی قربانی نہیں کی۔ان لوگوں نے میرے بعض رشتہ داروں کو مارا ہو ا تھا اور میں نے ان سے محض ان کا انتقام لیا ہے۔گویا اُس نے اقرار کر لیا کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق جوفر مایا تھا وہ صحیح تھا۔وہ خدا کیلئے نہیں لڑ رہا تھا اور اس نے خود اقرار کر لیا کہ میں جہنمی ہوں۔