خطبات محمود (جلد 18) — Page 110
خطبات محمود +11 سال ۱۹۳۷ء کہ ان زخموں کی یاد تازہ رکھنے والے لوگ مٹ گئے۔حضرت موسیٰ کی لائی ہوئی تعلیم دنیا سے کیوں مٹ گئی۔اس لئے کہ موسیٰ کو جو زخم لگے ان کی یاد تازہ رکھنے والے لوگ دنیا میں نہ رہے۔تم کیوں کہتے ہو کہ محمد خاتم النتہین ہیں اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم مٹ نہیں سکتی ؟ اسی لئے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگ ہمیشہ آتے رہیں گے جو ان زخموں کو گرید تے رہیں گے۔اگر اس اُمت میں بھی زخم کریدنے کی والے نہ آتے تو آپ کی لائی ہوئی تعلیم بھی مٹ جاتی کیونکہ تعلیم کبھی کتابوں کے ذریعہ قائم نہیں رہتی بلکہ ماننے والوں کے ذریعہ قائم رہتی ہے۔پس جبکہ خدا نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت ہمارے ہاتھوں اور ہمارے پاؤں کو باندھ رکھا ہے اور ہماری زبانوں کو اُس نے بند کیا ہوا ہے۔جب ایک طرف وہ یہ کہتا ہے کہ جاؤ اور حکومت وقت کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو اور دوسری طرف یہ حکم دیتا ہے کہ گالیاں سنو اور چُپ رہو۔سوائے ایسے خاص حالات کے جن میں وہ دفاع کی اجازت دیتا ہے مگر اس صورت میں بھی اعتداء سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے تو ان حالات میں ہمارے لئے سوائے اس کے اور کیا صورت رہ جاتی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعا کریں اور اس سے کہیں اے ہمارے ہاتھوں کو روکنے والے اور اے ہماری زبانوں کو بند کرنے والے خدا! تو آپ ہماری طرف سے اپنے ہاتھ اور اپنی زبان چلا۔پھر ނ کون کہہ سکتا ہے کہ اُس کے ہاتھوں سے زیادہ طاقتور ہاتھ بھی دنیا میں کوئی ہے اور اُس کی زبان۔زیادہ مؤثر زبان بھی کوئی ہوسکتی ہے۔تم نے خدا تعالیٰ کی قدرت کے کئی نظارے پچھلے دو سالوں میں دیکھے۔اب تیسرا سال جارہا ہے اگر تم اس سال پہلے دو سالوں سے بھی زیادہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے شاندار نظارے دیکھنا چاہتے ہو تو گزشتہ سالوں کے چالیس دنوں کے مقابلہ میں اس سال سات ماہ تک مسلسل دعائیں کرو اور خصوصیت سے یہ دعا مانگتے رہو کہ اللّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَ نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِم - یعنی اے خدا! ہم دشمنوں کی گردنوں پر تیرے ہی ہتھیار چلانا چاہتے ہیں اور ان کے شرور اور فتن سے تیری ہی حفاظت چاہتے ہیں۔نحر اُس گڑھے کو کہتے ہیں جو اُس جگہ پر واقعہ ہو جہاں گردن اور سینہ باہم ملتے ہیں۔یہیں سے بڑی رگیں سر کی طرف جاتیں اور دل سے دماغ کو خون پہنچاتی ہیں۔سو نَجْعَلُكَ فِی نُحُوْرِهِمْ کے یہ معنے ہیں کہ اے خدا ان کا گلی طور پر استیصال کرد۔اور شرارت اس طرح نہ مٹا کہ وہ بار بار زندہ ہوتی رہے بلکہ اس طرح مٹا کہ وہ کبھی ظاہر نہ ہو سکے۔پھر احرار کے علاوہ ہمارے اندر بعض منافق بھی پائے جاتے ہیں جن کا وجود ہمارے لئے سخت