خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 103

۱۰۳ خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء گیا کہ ہم نے دیکھ لیا خدا سے دعائیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔حالانکہ ایسے لوگ اگر اپنے اردگرد کے کی طبیبوں اور ڈاکٹروں کو دیکھیں تو انہیں نظر آجائے کہ بڑے بڑے ڈاکٹر اور طبیب مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور پھر علاج میں بُری طرح ناکام ہوتے ہیں مگر باوجود اس ناکامی کے لوگ پھر بھی ان کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں۔وہ انہیں روپیہ بھی دیتے ہیں ، ان سے دوائیں بھی لیتے ہیں۔ان کے کی نخرے بھی برداشت کرتے ہیں اور کبھی انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ ہمارے دائیں بائیں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انہی ڈاکٹروں اور طبیبوں نے بعض مریضوں کا علاج کیا اور وہ یا تو مر گئے یا اُن کی بیماری طول پکڑ گئی۔غرض علاج میں انہیں کئی جگہ نا کام دیکھنے کے باوجو دلوگ اُن سے علاج کرائیں گے۔انہیں فیسیں دیں گے اور اُن کی طرف دوڑے چلے جائیں گے۔لیکن دعا جس پر کچھ بھی مال خرچ نہیں ہوتا۔وہ اگر قبول ہو جائے تو کہہ دیں گے خدا نے فضل کر دیا۔لیکن اگر کوئی دعا قبول نہ ہو تو کہہ دیں گے بس جی دیکھ لیا، دعا کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ایسے لوگ در حقیقت خدا تعالیٰ سے سودا کر نیوالے ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کبھی سودا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔بلکہ خدا تو الگ رہا خدا تعالیٰ کے بندے بھی دوسروں سے سو دانہیں کرتے۔میرے پاس ہر سال بیسیوں درخواستیں اچھے اچھے تعلیم یافتہ ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کی ہے آتی رہتی ہیں جن میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ میں بی۔اے ہوں ، میں ایم۔اے ہوں ، میں ای۔اے سی ہوں ، میں فلاں معزز خاندان میں سے ہوں میرے دل پر اسلام کی حقیقت کھل گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ احمدیت میں داخل ہو جاؤں لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہماری سوسائٹی میں احمدیت کی سخت مخالفت ہے پس اگر میں احمدی ہو جاؤں تو آپ میری کیا امداد کریں گے؟ میں ہمیشہ ایسے لوگوں کو یہ لکھوایا کرتا ہوں کہ مالی امداد دینے والے دنیا میں اور بہت سے ہیں۔اگر تم پر اسلام کی سچائی کھل گئی ہے تو اس بارہ میں تمہیں مجھ سے مشورہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں تم اس سچائی کا اظہار کرو اور اس کے بدلہ میں کسی مادی فائدہ کی امید مت رکھو۔کیا تم نے کبھی سنا کہ کوئی شخص کہ رہا ہو میں نے فلاں لڑکی سے شادی کی تجویز کی ہے۔وہ بہت نیک اور اچھے خاندان کی ہے اگر میں وہاں شادی کرلوں تو اے لوگو! تم مجھے کیا دو گے؟ کیا تم نے کبھی سنا کہ کوئی شخص سخت پیاس کی حالت میں میلوں میں چکر کاٹ کر ایک چشمہ کے پاس پہنچے اور وہاں یہ کہنا شروع کر دے کہ اے دوستو! بتاؤ اگر میں اس چشمہ سے اپنی تین دن کی پیاس بجھالوں تو تم