خطبات محمود (جلد 18) — Page 102
خطبات محمود سال ۱۹۳۷ء کہہ سکتے ہو کہ ہمارے باپ نے بھی ہماری خواہش پوری نہ کی ، ہماری ماں نے بھی ہماری ضروریات کی طرف توجہ نہ کی مگر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا باپ اور ہماری ماں کوئی نہیں۔اسی طرح اگر کسی شخص کی دعا قبول نہ ہو تو وہ یہ تو کہ سکتا ہے کہ آہ! میرے خدا نے بھی میری دعا نہ سنی۔گو یہ بھی بے ادبی ہوگی ، گو یہ بھی گستاخی ہوگی ، گو یہ بھی بے دینی ہوگی ، مگر یہ معقول بے دینی ہوگی۔لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ میری دعا نہیں سنی گئی اس لئے کوئی خدا ہی نہیں۔اگر ایک شخص کسی کو آواز دیتا اور بلاتا ہے لیکن وہ کسی مصلحت کے ماتحت نہیں آتا تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جس کو میں نے بلایا تھا وہ ایک فرضی وجو د تھا، حقیقت میں اس کا کی کوئی وجود نہیں۔اسی طرح اگر دعا کے بعد کسی کی مرضی کے مطابق نتیجہ نہیں نکلتا تو وہ یہ نہیں کہ سکتا کہ میں نے بہت دیکھ لیا خدا کا بھی کوئی پتہ نہیں چلا۔اگر اس نے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیا تھا تو اُس کا انکار کس طرح کی کرسکتا ہے۔اور اگر نہیں دیکھا تھا تو اس سے زیادہ جھوٹ اور کیا ہوگا کہ کہا جائے میں نے خدا کو دیکھا حالانکہ اس نے اسے نہیں دیکھا۔تو جو لوگ دعائیں کرنے والے ہیں ان میں سے بھی ایک حصہ ایسا نکلے گا بلکہ ایک حصہ یقیناً ایسا ہے جو اندھرے والی دعا کرتا اور اس کے بعد رؤیت والی دعا کا دعویٰ کرنے لگ جاتا ہے۔گویا وہ اپنی نا بینائی کو خدا کی طرف منسوب کرتے اور اس کی ہستی کا انکار کرنے لگ جاتے ہیں۔ان کی مثال ہے اس نابینا کی سی ہوتی ہے جس سے کسی شخص نے سورج کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگا سورج کی کیا دلیل ہے؟ اس کی نے کہا سورج کی دلیل روشنی ہے جس سے ہر چیز کا اصلی رنگ نظر آ جاتا ہے ، سفید چیز سفید نظر آتی ہے اور ی سیاہ چیز سیاہ۔وہ نابینا کہنے لگا رنگوں کا فرق بھی تو بے دلیل بات ہے، دنیا میں کوئی رنگ نہیں۔یہ بھی اپنی نابینائی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا انکار کرتے اور اندھیرے میں ہو کر روشنی میں دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔پھر وہ جو دعاؤں پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اُن کو بھی اگر دیکھاتی جائے تو ان میں کمزوروں کا ایک گروہ نظر آتا ہے۔یعنی خدا انہیں دے دے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں ، نہ دے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔گویا پہلا گر وہ تو وہ تھا جس نے دعا کی اور اتفاق سے جو پہلی دعا اُس نے کی وہی قبول نہ ہوئی اور وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا منکر ہو گیا۔اور یہ وہ گروہ ہے جو دعائیں کرتا رہا اور خدا کی قبول کرتا رہا لیکن جونہی کوئی ایسی دعا آئی جسے خدا تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے قبول نہ کیا تو یہ بھی کہنے لگی