خطبات محمود (جلد 17) — Page 88
خطبات محمود ۸۸ سال ۱۹۳۶ء کر دیا مگر اس پر آج انہیں سو سال گزر چکے ہیں اور وہ قوم آج بھی صلیب پر لٹکی ہوئی ہے اور اُسے کہیں پناہ نہیں ملتی۔انگریزوں نے ان کیلئے فلسطین تلاش کیا مگر وہاں بھی مسلمان ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔اور میں بھی سمجھتا ہوں کہ یہود کو فلسطین میں بسانا ظلم ہے جب بھی مسلمانوں کو طاقت ملی وہ اپنا حق ضرور واپس لیں گے اور ان کو نکال دیں گے تو اس قوم کو کہیں بھی امن نہیں۔پہلے انگریزوں کے ملک میں انہیں امن تھا مگر اب ان میں بھی ایک ایسی قوم پیدا ہو رہی ہے جو یہود کو نکالنا چاہتی ہے۔یہ فیسی اسٹ پارٹی ہے۔فاسی ازم ایک تحریک ہے جس کی بنیاد مسولینی نے اٹلی میں رکھی تھی۔انگریزوں کے ملک میں یہ جماعت ابھی زور والی نہیں مگر ترقی کر رہی ہے۔درد صاحب گزشتہ ایام میں ان افسروں کے ظالمانہ رویہ کے سلسلہ میں جو ہمارے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے بعض لیڈروں سے بھی ملے تھے۔دورانِ ملاقات انہوں نے بتایا کہ ہمارا بھی جرمنی کے لوگوں کی طرح یہ خیال ہے کہ یہودیوں کو اپنے ملک میں نہ رہنے دیا جائے۔غرض یہود نے سمجھا تھا کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر لٹکا دیا مگر دراصل وہ یہودیت کو صلیب پر لٹکا رہے تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام تو تین گھنٹہ کے بعد صلیب سے اُتر آئے مگر یہود کو صلیب پر لٹکے ہوئے آج انیس سو سال گزر گئے ہیں۔پس ہمیں افسروں کی مخالفت کا ڈر نہیں وہ ہمیں نہیں بلکہ دراصل اپنے آپ کو تکالیف میں ڈال رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جبکہ وہی حکومت جس کے دبد بہ اور گھمنڈ کی وجہ سے وہ ایسا کر رہے ہیں ان کو گرفت کرے گی لیکن حالات ایسے ہیں کہ ہمارے آدمیوں کو بھی اِس سلسلہ میں بعض مشکلات میں سے گزرنا پڑے گا۔ہماری جماعت حکومت سے تعاون کی عادی ہے اور اب ایک نئے رنگ کے تعاون کا سوال در پیش ہے اس لئے ایسا نہ ہو کہ وہ کسی پولیس والے کی شکل دیکھیں تو سمجھیں کہ یہ نئی قسم کا خطرہ ہے۔اس رنگ میں بھی انہیں اپنے اندر بہادری پیدا کرنی چاہئے۔اگر تم ناحق پر ہو تو کوئی پولیس والا آئے یا نہ آئے تمہیں چاہئے کہ اس سے ڈرو۔ظلم اور جھوٹ بڑی خطرناک چیزیں ہیں اور وہ دل جس میں جھوٹ اور ظلم ہو بھی نہیں پنپتا خواہ ساری دنیا اُس کی حمایت کرے اور اگر تم حق پر ہو تو خواہ حکومت اور کانگرس اور رعایا سب مل کر بھی تمہیں پکڑنا چاہیں تو مت ڈرو۔اپنے اندر ہرقسم کی دلیری پیدا کرو جہاں بھی بے انصافی دیکھو اس کا مقابلہ کرو