خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 761 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 761

خطبات محمود ۷۶۱ سال ۱۹۳۶ اگر دوست اس کا خیال رکھیں تو میں سمجھتا ہوں یقیناً قومی کیریکٹر میں ایک بہت بڑی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تبدیلی ہو بھی رہی ہے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں قربانی کی روح اس وجہ سے پیدا ہو رہی ہے مگر قربانی کی روح بھی انہی میں پیدا ہوتی ہے جو بشاشت سے اعمال بجالائیں کیونکہ روحانی امور بشاشت ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔جو لوگ عمل کریں مگر ساتھ ہی کی چلے جائیں اور کہتے جائیں کہ جب سے ایک کھانا کھانا شروع کیا ہے کھانے میں مزا ہی نہیں رہا انہیں میں یہی کہوں گا کہ وہ دو ہی کھانے کھائیں کیونکہ ان کا دو کھانے کھانا ایک کھانا کھانے سے زیادہ اچھا ہے۔پس اس تحریک میں وہی شامل ہو جو اس تحریک کی خوبیوں کا قائل ہو گیا ہو اور اپنی اور اپنی جماعت کی زندگی اس میں محسوس کرتا ہو اور جو شخص ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا وہ تجربہ کر کے دیکھ لے اگر ایک کھانا کھانے کے بعد اس کے دل میں بشاشت پیدا نہ ہو تو چھوڑ دے یعنی اگر اس کی تحریک کی خوبیوں کو نہ اس کا دل مانتا ہو نہ عقل اور وہ تجربہ کر کے فائدہ نہ دیکھے تو اسے چھوڑ دے۔ہاں وہ شخص جس کی عقل تو نہ مانتی ہومگر دل مانتا ہو یعنی وہ سمجھتا ہو کہ خواہ میرا انفس کچھ اور کہتا ہے مگر تب میں ایک شخص پر اعتقاد رکھتا ہوں کہ وہ میرا استاد ہے تو اس نے جو کچھ کہا ہوگا درست ہی کہا ہوگا تو ایسے شخص کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن وہ شخص جس کی نہ عقل مانتی ہو نہ دل اور عمل کے بعد بھی اس کی قبض دور نہیں ہوتی وہ اس مطالبہ پر عمل کر کے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا سوائے اس کے کہ اس کی صحت خراب ہو اور وہ صبح شام کڑھتار ہے اور کچھ نتیجہ اس کیلئے نہیں نکلے گا۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے یہ معمولی مطالبہ نہیں بلکہ نہایت ہی اہم مطالبہ ہے اور یقیناً جوانی شخص رسول کریم ﷺ کی زندگی ، صحابہ کرام کی زندگی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق پر غور کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اسلامی تعلیم اور اسلامی تعامل یہی ہے۔باقی رہا یہ کہنا کہ اگر اسلامی تعلیم یہی ہے تو آپ حکم کیوں نہیں دیتے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں جو عمل کیا جائے وہ بشاشت سے کیا جائے اور اپنی مرضی سے کیا جائے تا کہ ثواب بڑھے۔جو فوری ضروریات ہوتی ہیں اُن کے متعلق ہم حکم دے دیتے ہیں اور جو فوری امور نہ ہوں ان میں ہم حکم نہیں دیتے بلکہ قوم کو تیار کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں جوں جوں ہماری جماعت اس تحریک پر عمل