خطبات محمود (جلد 17) — Page 740
خطبات محمود ۷۴۰ سال ۱۹۳۶ حالت تھی اس لئے آپ نے اس پر اپنے غصے کا اظہار کیا اور اُسے برسر در بار ذلیل کیا۔مجھے اس سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک خلعت پہنائی ہوئی ہے اُس نے مجھے بھی آنکھ ، کان، ناک، زبان، دل، دماغ اور ہزاروں قو تیں دی ہیں جنہیں میں رکن بھی نہیں سکتا مگر میں انہیں صبح و شام ضائع کرتا ہوں خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی بے قدری کرتا ہوں جب آپ ایک معمولی خلعت کی وجہ سے اُس پر اتنا سخت ناراض ہوئے ہیں تو مجھ پر میرا آقا کس قدر ناراض ہو گا۔پس اب میں نہیں سمجھتا کہ میں بھی کسی کام کا اہل ہوں۔آپ مجھے اجازت دیں اور میرا استعفیٰ منظور کریں۔بادشاہ نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا۔چونکہ وہ ایک سخت جابر اور ظالم گورنر رہ چکے تھے اس لئے وہ علماء کے پاس جاتے اور کہتے کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ مگر جس کے پاس بھی وہ جا کر یہ کہتے کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ وہی کہتا کہ تمہاری تو بہ قبول نہیں ہو سکتی۔آخر وہ حضرت جنید بغدادی کے پاس گئے اور کہا میں ہر طرف سے راندہ ہوا آپ کے پاس آیا ہوں۔سنا ہے آپ اہل اللہ ہیں آپ بتائیں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں اگر تم میری ایک بات مان لوتو میں تمہاری توبہ قبول کرانے کیلئے تیار ہوں۔انہوں نے عرض کیا فرمائیے میں آپ کا ہر حکم ماننے کیلئے تیار ہوں۔حضرت جنید نے کہا تمہارا جو دار الحکومت تھا وہاں تم جاؤ اور ہر گھر کے دروازہ پر کھڑے ہو کر وہاں کے رہنے والوں سے معافی مانگو اور کہو کہ جو جو مظالم میری طرف سے تم پر ہوئے ہیں انہیں معاف کر دو۔چنانچہ وہ گئے اور سارے شہر میں ایک ایک دروازہ پر دستک دے کر معافی مانگی پھر واپس آئے تو حضرت جنید نے کہا میں تمہارا تکبر تو ڑ نا چاہتا تھا اور دیکھنا چاہتا؟ تھا کہ تم سچی توبہ کرتے ہو یا نہیں ورنہ تو بہ تو ہر حالت میں قبول ہوسکتی ہے۔اس پر انہوں نے حضرت جنید کی بیعت کی اور پھر خود روحانیت میں اس قدر ترقی کی کہ مشہور اہل اللہ بن گئے۔تو اللہ تعالیٰ کی خلعت کی بندہ روز ناقدری کرتا ہے مگر سال میں ایک دن بھی تو ایسا نہیں رکھتا جس میں اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے۔وہ بے شک دعا کرتا ہے مگر دعا کرتے وقت کھچڑی پکا کر رکھ دیتا ہے۔کچھ تو وہ یہ مانگتا ہے کہ میرے بچے بیمار ہیں انہیں تندرست کر، کچھ وہ یہ مانگتا ہے کہ فلاں مقدمہ چل رہا ہے اس میں مجھے کامیاب کر، کچھ وہ یہ مانگتا ہے کہ فلاں تجارت ہے اس میں مجھے نفع دے، کچھ وہ یہ مانگتا ہے کہ میرا ہمسایہ مجھے دق کرتا ہے اس کی دقت میرے