خطبات محمود (جلد 17) — Page 739
خطبات محمود ۷۳۹ سال ۱۹۳۶ ہو جائے تو ناراضگی کا اظہار کر دیتا ہے اور یہاں تو اللہ تعالیٰ کے بندوں نے اُس کی دی ہوئی چیزوں کا اتنا نقصان کیا ہے کہ اگر اتنا نقصان بندوں کا کوئی کرتا تو وہ کھال ادھیڑ کر رکھ دیتے۔حضرت شبلی ایک صوبہ کے گورنر تھے وہ کوئی رپورٹ دینے کیلئے بادشاہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ بادشاہ کا دربار لگا ہوا ہے ایک جرنیل جو کوئی بڑی مہم فتح کر کے آیا تھا وہ بھی بیٹھا ہوا ہے اور وہ دربار دراصل اسی لئے منعقد کیا گیا تھا کہ اُس جرنیل کو خلعت دیا جائے۔غرض اُس کے اعزاز میں خوشی سے تمام لوگ جمع تھے کہ وہ جرنیل بادشاہ کے سامنے پیش ہوا اُسے ایک چوغہ بطور خلعت پہنایا گیا اور بادشاہ نے اُس کی تعریف میں چند کلمات کہے اتفاقا وہ جرنیل دربار میں جاتے ہوئے رومال ساتھ لانا بھول گیا تھا اور اُس روز اُسے نزلہ کی بھی شکایت تھی دربار میں بیٹھے بیٹھے جو اُسے چھینک آئی تو ناک سے رینٹھ بہہ نکلی۔وہ سخت حیران ہوا کہ اب میں کیا کروں جب اُسے اور کچھ نہ سوجھا تو بادشاہ کی آنکھ بچا کر اُس نے اُسی چوغہ سے ناک پونچھ لی کیونکہ اس کے سوا اور کوئی صورت ناک صاف کرنے کی اُس کیلئے نہیں تھی مگر اتفاق ایسا ہوا کہ گو اُس نے آنکھ بچا کر ناک پونچھی تھی مگر بادشاہ کی نظر پڑ گئی اور وہ آپے سے باہر ہو گیا۔اُس نے نہایت غصے سے کہا اس مردود کو ہمارے دربار سے باہر نکال دو یہ ہمارے انعام کی قدر نہیں جانتا۔اس کا چوغہ بھی اتار لو اور ا سے ذلیل کرو۔چنانچہ اُس کا خلعت اُتار لیا گیا اور اُسے ذلیل کر کے دربار سے باہر نکال دیا گیا۔شبلی جو نہایت جابر گورنر تھے انہوں نے جو نہی یہ نظارہ دیکھا چیچنیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔بادشاہ کہنے لگا کیا تو پاگل ہو گیا ہے؟ میں ناراض تو اُس پر ہؤا ہوں اور چینیں تو مارنے لگ گیا ہے۔شبلی نے کہا حضور ! میرا استعفیٰ منظور کیجئے۔وہ کہنے لگا کیوں؟ شیلی کہنے لگے اس شخص نے آپ کیلئے جو قربانی کی اور اُس کے مقابلہ میں آپ نے جو اسے انعام دیا کیا ان دونوں کی بھی آپس میں کوئی نسبت ہے۔اس نے زبر دست دشمن کے مقابلہ میں مہینوں اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالے رکھا، ہر گھڑی یہ ایک موت کا شکار ہوتا اور ہر گھڑی اس کی بیوی بیوہ ہوتی ، اس نے مہینوں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر فتح حاصل کی اور آپ کے نام کا شہرہ ہوا لیکن آپ نے جو اسے چوغہ دیا اس کی کیا حقیقت ہے ویسا چوغہ وہ خود بھی خرید سکتا تھا لیکن چونکہ آپ بادشاہ ہیں اس لئے بادشاہ کی دی ہوئی اتنی چھوٹی چیز کی بھی چونکہ اس نے قدر نہ کی اور اس سے اپنی ناک پونچھ لی جو بالکل مجبوری کی