خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 731 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 731

خطبات محمود ۷۳۱ سال ۱۹۳۶ کے باعث ہی جو نبی دسمبر آ جائے دوستوں کے دلوں میں بے چینی پیدا ہونی شروع ہو جانی چاہئے کہ چالیس سالہ پرانی عادت کے مطابق اب ان کیلئے اپنے مکان خالی کرنے اور اپنی خدمات جلسہ سالانہ کیلئے پیش کرنے کا وقت آگیا ہے مگر وہ عادت پوری کیوں نہیں ہوتی۔جس طرح ایک نشئی کو اباسیاں آنے لگتی ہیں اسی طرح چاہئے کہ ہمارے دوستوں کو بھی جلسہ سالانہ کے قرب کے ایام میں اباسیاں آنے لگیں۔پس میرے لئے یہ بات ماننی ذرا مشکل ہے کہ دوست اپنے مکان خالی نہیں کرتے یا مہمانوں کیلئے اپنی خدمات پیش نہیں کرتے اس لئے میں سمجھتا ہوں شاید وہی بات کی ہے کہ افیونی اپنی ڈبیہ بھول جاتا ہے اور مکان لینے والے اچھی طرح تمام لوگوں کے پاس نہیں کی پہنچے۔وگر نہ ایمان کے ماتحت تو اس قسم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ کامل ایمان تو بڑی چیز ہے ایک منافق کے ایمان کے متعلق ہی آتا ہے کہ اُس نے رسول کریم ﷺ سے ایک دفعہ عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ادعا کیجئے میں بڑا دولتمند بن جاؤں کیونکہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں خوب صدقے دیا کروں۔رسول کریم ﷺ نے اُس کیلئے دعا کی اور وہ بڑا دولت مند ہو گیا ہزاروں اونٹ اور ہزاروں بکریاں اُس کے پاس جمع ہو گئیں اور یہی اُس زمانہ کی دولت تھی۔اب جو اُس پر زکوۃ فرض ہوئی تو رسول کریم ﷺ کا مقرر کردہ آدمی اُس کے پاس زکوۃ لینے گیا چونکہ ایمان اُس کے دل میں نہیں تھا صرف اُس کا نفس اُسے یہ دھوکا دے رہا تھا کہ اگر مجھے دولت حاصل ہو جائے تو میں صدقے دیا کروں اس لئے جب ایک آدمی زکوۃ لینے اُس کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ہر وقت انہیں چندوں کی پڑی رہتی ہے کبھی کہتے ہیں صدقہ دو، کبھی کہتے ا ہیں اتنی زکوۃ دو، کبھی کہتے ہیں اتنا چندہ دو، ہمارا اپنا گزارہ ہی مشکل سے چلتا ہے اونٹوں اور گھوڑوں کو دانہ ڈالنا پڑتا ہے، نوکروں کو مزدوری دینی پڑتی ہے اور بہت سے اخراجات ہیں جو پورے ہونے میں نہیں آتے لیکن انہیں ہر وقت چندوں کی فکر رہتی ہے اور کہتے ہیں کہ لاؤ چندہ اب تم پر زکوۃ فرض ہو گئی ہے۔اب فلاں مقصد کیلئے روپیہ چاہئے وہ شخص یہ باتیں سن کر واپس آگیا اور اُس نے رسول کریمہ سے آکر کہہ دیا کہ وہ کہتا ہے کہ ہم کہاں سے دیں ہر وقت چندہ چندہ پکارا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا آئندہ اُس سے کوئی زکوۃ اور صدقہ قبول نہ کیا جائے۔چونکہ اُس شخص کا دل گلی طور پر نہیں مرا ہو ا تھا اس لئے جب اُسے معلوم ہوا کہ بجائے اس کے رسول کریم ﷺ صلى الله