خطبات محمود (جلد 17) — Page 720
خطبات محمود ۷۲۰ سال ۱۹۳۶ اے خدا! شیطانی خیالات کو اس وقت ہم سے دور کر دے کیونکہ ہم ایک نیا بندہ پیدا کرنے لگے ہیں اگر اب تک ہماری رگوں میں خون کے ساتھ شیطان دوڑتا رہا ہے تو اب اسے ہم سے علیحدہ کر دے تا آئندہ یہ سلسلہ نہ چل سکے اور اس کے نتیجہ میں جو اولا د تو ہمیں دینے والا ہے اسے شیطان سے بچا کر دے تا بدی کا سلسلہ یہیں منقطع ہو جائے۔جو ماں باپ ان شہوات کے اوقات میں یہ دعا کریں کوئی وجہ نہیں کہ ان کی اولا د نیک نہ ہو اور شیطان کے اثر سے پاک نہ ہو بشرطیکہ خلوص نیت سے یہ دعا کی جائے کہ زبان کے ساتھ دل اور دماغ بھی اس دعا کے کرتے وقت شریک ہوں۔پس شریعت نے بچہ کی تربیت اور پرورش کیلئے ان دنوں میں خصوصاً احتیاط سکھائی ہے جب وہ ظلمات میں ہوتا ہے اور یہ احتیاط کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھا ہے جب تک کہ ظلمات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔رضاعت کے ایام بھی اسی سلسلہ کی لمبائی ہیں کیونکہ ان دنوں میں ابھی بچہ اپنی زندگی کیلئے دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ ماں کی طرف ہی متوجہ ہوتا ہے۔چنانچہ اُس وقت بھی ماں کو روزے رکھنے کی ممانعت ہے اور بہت سی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔پس ترقیات کا فیصلہ ہمیشہ ظلمات میں ہوتا ہے اور جس طرح جسمانی ترقیات ظلمت میں ہوتی ہیں اسی طرح روحانی ترقیات بھی رات میں ہی ہوتی ہیں۔ہر قوم کی روحانی ترقی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی اس کی ابتدائی قربانیاں ہوتی ہیں اُس کی لیلۃ القدر ہی اس کی ترقیات کی عمر کا معیار ہوتی ہے۔رسول کریم نے اسی لئے فرمایا ہے کہ کوئی شخص جتنا خدا کا پیارا ہو اتنے ہی زیادہ اُسے ابتلا ء پیش آتے ہیں کیونکہ اس کیلئے انعام بھی زیادہ مقدر ہوتے ہیں۔غرض لیلۃ القدر اُس قربانی کی ساعت کو کہتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوتی ہے۔بعض قربانیاں مقبول نہیں ہوتیں۔جنگ بدر میں مکہ کے جو کفار مارے گئے ان کی قربانی خدا کے ہاں مقبول نہیں تھی پس وہ زمانہ لیلۃ القدر نہیں کہلا سکتا مگر جو صحا بہ شہید ہوئے اُن کی قربانی مقبول تھی۔جس تکلیف کی اللہ تعالیٰ کوئی قیمت مقرر نہیں کرتا وہ لیلۃ القدر نہیں وہ سزا ہے، عذاب ہے، انتقام ہے مگر وہ تکلیف جس کیلئے اللہ تعالیٰ قیمت مقرر کرتا ہے وہ لیلۃ القدر ہے یعنی ظلمت ، بلا اور دُکھ جس کا بدلہ دینے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہو وہ لیلتہ القدر ہے۔پنجابی میں بھی کہتے ہیں کہ میری قربانی کی کوئی قدر نہیں کی گئی عربی میں بھی یہ لفظ ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ