خطبات محمود (جلد 17) — Page 705
خطبات محمود ۷۰۵ سال ۱۹۳۶ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل ایک بزرگ کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے کئی سال تک با قاعدہ مسجد میں نمازیں پڑھیں تاکہ لوگ ان کی تعریف کریں لیکن خدا تعالیٰ نے ان کی کسی گزشتہ نیکی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ان کے متعلق یہ بات ڈال دی کہ یہ سب لوگ انہیں منافق کہتے تھے۔آخر ایک دن انہیں خیال آیا کہ اتنی عمر ضائع کی کسی نے بھی مجھ کو نیک نہیں کہا اگر خدا کیلئے عبادت کرتا تو خدا تعالیٰ تو راضی ہو جاتا۔یہ خیال ان کے دل میں اتنے زور سے آیا کہ وہ اُسی وقت جنگل میں چلے گئے، روئے اور دعائیں کیں اور توبہ کی اور عہد کیا کہ خدایا! اب میں صرف تیری رضا کیلئے عبادت کیا کروں گا۔جب واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں یہ کی بات ڈال دی کہ یہ شخص ہے تو بہت ہی نیک مگر معلوم نہیں لوگوں نے اسے کیوں بدنام کر رکھا ہے اور بچے بوڑھے سب اس کی تعریف کرنے لگے۔اس بزرگ نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ خدایا ! صرف ایک دن میں نے تیری رضا کی خاطر نماز پڑھی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے میری تعریف کرنی شروع کر دی۔پس ہر مؤمن کیلئے ضروری ہے کہ جب وہ نماز پڑھے تو اس کو شروع کرتے وقت اگر اس کے دل میں تکبر ہو تو ہو لیکن جب اسے ختم کرے تو اُس کا دل تکبر سے بالکل خالی ہو چکا ہو، اسی طرح جب وہ روزہ رکھے تو شروع میں اگر اُس کے اندر کبر کا کوئی شائبہ ہو تو ہولیکن جب اسے ختم کرے تو وہ تکبر کو کلی طور پر چھوڑ چکا ہو۔تاریخوں میں آتا ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی زبان پر یہ فقرہ جاری تھا کہ رَبِّ لَا عَلَيَّ وَلَا لِی ہے یعنی اے خدا! میں اپنے کاموں کا تجھ سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا صرف یہی آرزو ہے کہ میرے اوپر کوئی الزام قائم نہ کیا جاوے۔گویا ہزار ہات کام کرنے کے باوجود وہ یہی سمجھتے تھے کہ اس وقت تک میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔پس ترقی کیلئے ضروری ہے کہ جس قدر بھی عبادت کی جائے اُسی قدر آدمی اور زیادہ جھکتا چلا جائے حتی کہ اُسے یہ احساس بھی نہ ہو کہ اس نے کچھ کیا ہے۔جو لوگ دنیا میں یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے کچھ حاصل کر لیا ہے اُن کی مثال کنویں کے مینڈک کی سی ہوتی ہے جو سمندر کے مینڈک سے ملا اور ایک چھلانگ لگا کر اُس سے کہا کہ کیا سمندر اتنا بڑا ہوتا ہے؟ اُس نے کہا نہیں۔اُس نے دو چھلانگیں اور ماریں اور کہا کہ