خطبات محمود (جلد 17) — Page 704
خطبات محمود ۷۰۴ سال ۱۹۳۶ انعام کیسے تجویز کر سکتا ہے جب وہ اپنے لئے خود کوئی انعام تجویز کرتا ہے تو وہی اُس کے تنزل کا مقام ہوتا ہے۔جیسے دنیا میں کوئی ماں باپ ایسے نہیں جن کو اپنے بچوں سے محبت نہ ہولیکن وہ اس امر کو پسند نہیں کرتے کہ بچہ اُن پر حکومت کرے۔جب ماں باپ بچے کی طرف سے اس سلوک کو برداشت نہیں کر سکتے تو کیا خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ امید ہو سکتی ہے کہ خدا بندے کی حکومت تسلیم کرے اور بندے کو وہی دے جو بندہ خود اپنے لئے تجویز کرے۔کئی لوگ حج کرتے ہیں تو حاجی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں حالانکہ وہ روزانہ دیکھتے ہیں کہ تمام مؤمن نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہیں لیکن کبھی انہوں نے خواہش نہیں کی کہ انہیں نمازی یا روزے دار کہا جائے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حج کر لینے کے بعد وہ اپنے اندر ایک بڑائی محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔مرزا غالب کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے ایک دفعہ ایک خاص قسم کی ٹوپی پہنی جب لوگوں نے بھی ان کی نقل میں اسے پہننا شروع کیا تو انہوں نے اُسے اُتار دیا اور اپنی بڑائی میں دوسروں کی نقل کو بھی برداشت نہ کیا حالانکہ اُن کو خوش ہونا چاہئے تھا کہ لوگوں نے اُن کی نقل کی ہے اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ کے انبیاء ان اخلاق کو لے کر آتے ہیں کہ بجائے اس کے وہ اپنی نقل کو نا پسند کریں ان کے دل میں خواہش ہوتی ہے کہ لوگ ان کی نقل کریں۔غرض ایک کچے مؤمن میں تذلیل ہوتا ہے اور وہ جوں جوں عبادت کرتا ہے اس کا تذلل ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ اس قدر عبادت کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیئے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا عائشہ کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۲؎۔اسی طرح ایک دفعہ جب آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ اپنے اعمال کے زور سے بہشت میں جائیں گے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں میں بھی جنت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی جاؤں گا سے۔گویا آپ نے اپنے اعمال کی قیمت محض اللہ تعالیٰ کا فضل رکھی۔غرض جس کو بچے کام کی تو فیق مل جاتی ہے اس کے دل میں کبھی غرور پیدا نہیں ہوتا۔