خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 699 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 699

خطبات محمود ۶۹۹ سال ۱۹۳۶ اور دائم المرض ہوتے ہیں مگر ماں باپ اُن کو چھاتی سے لگائے پھرتے ہیں اور ان کی خدمت کرتے ہیں۔دنیا میں کتنے ماں باپ ہیں جو کسی غیر کے بچہ کو محض اس وجہ سے محبت کریں کہ وہ خوبصورت ہے لاکھ میں سے ایک بھی عورت شاید ایسی نہ ہو۔کہتے ہیں دنیا کی آبادی اس وقت ڈیڑھ ارب ہے غور کر کے دیکھ لو ان میں چند ہزار بھی ایسی مائیں نہیں ملیں گی جو دوسرے کے بچہ سے محض خوش شکل ہونے کی وجہ سے اپنے بچہ کی طرح محبت کریں مگر پچاس فیصدی ایسی ہیں جو نہایت ہی بدصورت اور ایسے گندے بچوں کو جنہیں دیکھ کر گھن آتی ہے چھاتی سے لگائے پھرتی ہیں کیونکہ اُن کیلئے اُن کے دل میں اخلاص ہوتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ ایمان عمل کی کمزوری کو پورا کر دیتا ہے جس طرح محبت ظاہری نقص کو پورا کر دیتی ہے ایسی مثالیں تو بے شمار ہیں کہ بچہ بدصورت ہے مگر ماں جذبہ محبت کی وجہ سے پیار کرتی ہے مگر ایسی مثال کوئی نہ ملے گی کہ دل میں نفرت ہو اور صرف خوبصورتی کی وجہ سے کوئی عورت بچہ کو پیار کرے۔پس اگر واقعہ میں آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک تعریف کے مستحق بنیں تو اعمال کے ساتھ نیت کی بھی اصلاح کریں۔کسی قربانی پر بھی مطمئن نہ ہوں بلکہ نیت رکھیں کہ اور بھی کریں۔اگر تو واقعی آپ کے قلب کی یہی حالت ہے تو سمجھ لیں کہ ٹھیک ہے لیکن اگر یہ خیال ہے کہ بوجھ ہے تو نیت ہی نہیں ساتھ ہی عمل بھی رڈ کر دیا جائے گا۔سورۃ فاتحہ میں یہ ایک عظیم الشان نکتہ ہے جو سکھایا گیا ہے مؤمن کو چاہئے اس سے فائدہ اُٹھائے اور ساتھ دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور نیت کی اصلاح ایسے رنگ میں کر دے کہ ہم اس کی ابدی رحمت اور ابدی جنت کے حقدار ہو جائیں تا خدا تعالیٰ سے ہمارا تعلق حقیقی ہو عارضی اور غیر حقیقی نہ ہو۔البقرة : ۲۶۱ ( الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۳۶ء) بخاری کتاب التفسير - تفسير سورة الممتحنة باب لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَ عَدُوَّكُمْ المعجم الكبير جلد 4 صفحہ ۲۲۸، مطبوعہ عراق ۱۹۷۹ء