خطبات محمود (جلد 17) — Page 662
خطبات محمود ۶۶۲ سال ۱۹۳۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا ہے۔فرماتا ہے يَنصُرُكَ رِجَالُ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے۔پس جب کوئی شخص سلسلہ کی مدد کرتا ہے تو اس لئے کہ خدا کا فرشتہ اسے کہتا ہے کہ جا اور جا کر مدد کر۔غرض ہمیں جو کچھ ملتا ہے آدمیوں کا دیا ہوا نہیں بلکہ خدا کا دیا ہوا ہے اور ہمارے سلسلہ کے کام آدمیوں اور روپوں کے بغیر ہی چل رہے ہیں کیونکہ جس طرح وحی سے مدد کرنے والا انسان کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہتھیار کی حیثیت سے کام کرتا ہے اسی طرح وحی سے ملا ہوا روپیہ نہیں صرف خدا تعالیٰ کا اذن ہے۔غرض الہام الہی کے مطابق ہر وہ قربانی کرنے والا جو سلسلہ کی مدد کرتا ہے وہ اپنی ہر قربانی کے وقت منہم ہوتا ہے اگر وہ ایک پیسہ بھی سلسلہ کی خدمت کیلئے دیتا ہے تو چونکہ اُس وقت خدا تعالیٰ کا الہام اس کے دل پر نازل ہو رہا ہوتا ہے اس لئے دیتا ہے۔پس اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دے دیا ہوا ہے۔منافقوں کے ان سوالوں کا جواب دینے کے بعد میں ان مخلصوں کو توجہ دلاتا ہوں جو میرے اوّل مخاطب ہیں۔اتنی لمبی تمہید میں نے اس لئے بیان کی ہے کہ منافق میرے مخاطب نہیں ہیں ان سے کیوں مددلوں جن کے متعلق دل چاہتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دے تو ان کو تباہ کر دے ایسے لوگ تو جب چندہ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت لے لیتا ہوں ورنہ دل تو یہی چاہتا ہے کہ واپس کر دوں کہ یہ مال ہمارے لئے کسی برکت کا نہیں بلکہ نقصان کا موجب ہی ہوگا۔پس میں مؤمنوں سے کہتا ہوں کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ نے بغیر رو پید اور بغیر آدمیوں کے کام کیا ہے۔جب جماعت میرے سپرد ہوئی اس وقت سترہ اٹھارہ ہزار روپیہ قرض تھا اور خزانہ میں صرف چند آنے تھے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ثابت کر دکھایا یا نہیں کہ وہ بغیر روپیہ کے بھی کام چلا دیتا ہے۔اُس وقت غیر مبائعین نہایت فخر سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے ساتھ اٹھانوے فیصدی جماعت ہے اور تمہارے ساتھ صرف دو فیصدی۔مگر اب ان سے پوچھ کر دیکھو کہ اٹھانوے فیصدی ان کے ساتھ ہے یا میرے ساتھ ؟ اور اس وقت تک ایک کروڑ کے قریب روپیہ میرے ہاتھوں سے گزر چکا ہے یہ مطلب نہیں کہ میرے ہاتھ میں آیا بلکہ انجمن میں جو بھی آتا ہے وہ میری نگرانی میں خرچ کرنے کیلئے ہی لوگ بھیجتے ہیں اس لئے اصولی طور پر وہ میرے