خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 661 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 661

خطبات محمود ۶۶۱ سال ۱۹۳۶ وہ بھی یا تو حکومت سے امداد لیتے ہیں یا راجوں ، مہاراجوں کی مدد سے چلتے ہیں۔افراد کی مدد ہندوستان بھر میں کسی کو اتنی نہیں ملتی حالانکہ مسلمانوں کی تعداد سات کروڑ ہے اور ہماری تعداد سرکاری مردم شماری کے مطابق پنجاب میں صرف ۵۶ ہزار اور سارے ہندوستان میں ایک لاکھ ہے۔پھر منافق بھی شور مچاتے رہتے ہیں اور ورغلاتے رہتے ہیں مگر ہمارے دوست ہر لحاظ سے قربانی میں آگے ہی بڑھتے ہیں۔پس سوچنا چاہئے کہ یہ سب کام کون کر رہا ہے دوسری انجمنوں میں سے کسی میں اگر ایک منافق بھی ہو تو وہ ٹوٹ جاتی ہے مگر یہاں بیسیوں ہیں اُن کی سفارشیں بھی دوست کرتے ہیں ، تائیدیں بھی کرتے ہیں اور اُن کی باتیں بھی سنتے ہیں پھر بھی قربانی میں آگے ہی کی آگے جماعت بڑھتی جاتی ہے۔کیا اس کے باوجود کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ کام انسان کرتے ہیں؟ کا رلائل ایک انگریز جو بڑا مصنف ہے اس نے رسول کریم ﷺ کے متعلق بھی ایک مضمون لکھا ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے آنحضرت کی عزت اور عظمت ان کی تعلیم کی وجہ سے قائم نہیں ہوئی بلکہ تلوار سے قائم ہوئی ہے مگر وہ کہتا ہے اس اعتراض کی حقیقت میری سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ اس اعتراض کے ساتھ ہی ایک دوسرا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے جس کا جواب کوئی نہیں دے سکتا کہ یہ تلوار چلانے والے کہاں سے آئے تھے؟ کیا محمد (ﷺ) کوئی نسلی بادشاہ تھے کہ انہوں نے اپنی سپاہ سے اپنے ملک کو وسیع کر لیا ؟ اگر نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ محمد (ﷺ) کے پاس تلوار چلانے والے کہاں سے آئے تھے؟ وہ بہادر لوگ جنہوں نے ساری دنیا کو مار مار کر اس طرح آگے لگا لیا سوچنا چاہئے کہ ان تلوار چلانے والوں کو کونسی تلوار نے فتح کیا تھا ؟ اگر کہو کہ دلیل سے وہ قابو کئے گئے تھے تو پھر سوال یہ ہے کہ جس دلیل نے ان بہادروں کو قابو کیا تھا تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ دلیل دوسروں کو قابو کرنے میں ناکام رہی تھی۔کارلائل کا یہ جواب یہاں بھی چسپاں ہوتا ہے بیشک ہمارا کام بھی بظا ہر آدمیوں اور روپیہ کے ذریعہ ہورہا ہے مگر ان آدمیوں اور روپیہ کو لانے کے ذرائع کو بھی تو دیکھنا چاہئے ان کو خدا تعالیٰ کے سوا کون لاتا ہے۔منافق اور بعض غیر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی یہ کہا کرتے تھے کہ منظم جماعت ہے اس لئے کام چل جاتا ہے مگر وہ بھی یہ نہ سوچتے تھے کہ ان لوگوں کو کون لایا جو تنظیم کے ماتحت چلنے کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود ہی