خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 655 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 655

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کثرت سے خبر دی گئی ہے۔ان سادہ لوح مؤمنوں کی مثال اُن غیر احمد یوں کی سی ہوتی ہے جو قرآن کریم میں یہ تو پڑھتے ہیں کہ ہر قوم میں خدا کا نبی گزرا ہے لیکن جب کوئی حضرت کرشن یا حضرت رام چندر جی کو نبی کہہ دے تو آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ آخر قرآن کریم کے اس دعویٰ کی تصدیق کسی مثال سے ہی ہوسکتی ہے ورنہ اس صداقت کے بیان کرنے سے فائدہ کیا ہوا۔غرض قسم کھا کر الزام کو دور کرنا اور بالکل پکڑے جانے کی صورت میں جھٹ تو بہ کا اظہار کرنا تو منافق کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے اس سے دھوکا کھانا تو ایک مؤمن کیلئے ناممکن ہونا اہئے۔منافق تو جب دیکھتا ہے کہ اُس کا جرم ظاہر ہو گیا تو فوراً بھاگتا ہے اور معافی مانگتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی جنگ سے جب واپس کوئے تو منافقین فوراً حاضر ہوئے اور معذرتیں کرنے لگے اور درخواست کرنے لگے کہ ہمیں معاف کر دیں اور اللہ ابھی ہاتھ اٹھا کر دعا کر دیں۔دیکھنے والا تو خیال کرتا ہے کہ یہ کتنے مخلص لوگ ہیں یہ نہیں چاہتے کہ ایک منٹ بھی اس حالت میں رہیں لیکن در حقیقت اُن کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ بات یہی ختم ہو جائے اور مزید تحقیقات نہ ہو لیکن مؤمن ایسی بناوٹی معذرت سے ہچکچاتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ تین مؤمن بھی اس جنگ میں شامل نہ ہوئے تھے ان میں سے ایک کا طویل بیان احادیث میں آتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب میں رسول کریم ﷺ کی واپسی کے بعد آپ کے پاس پہنچا تو میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ سناؤ پیچھے رہنے والے اور بھی کوئی آئے ہیں یا نہیں اور انہوں نے کیا کیا طریق معذرت کا اختیار کیا ہے اور ان سے کیا سلوک ہؤا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ لوگ آتے ہی عذر معذرت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! ہماری معافی کیلئے دعا کر دیں تو آپ ان کیلئے دعا کر دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں مجھے خیال آیا کہ میں بھی کوئی عذر کر دوں اور سرزنش سے چھوٹ جاؤں مگر پھر مجھے کچھ خیال آ گیا اور میں نے صحابہ سے پوچھا کہ کون کون لوگ آچکے ہیں؟ انہوں نے نام لئے تو سب منافق تھے صرف دو مومنوں کا نام انہوں نے لیا اور بتایا کہ انہوں نے کوئی عذر نہیں کیا بلکہ اپنی غلطی کا اقرار کیا ہے۔تب میں نے دل میں کہا کہ میں منافقوں کے ساتھ کیوں شامل ہوں بہتر ہے کہ ایسے عذر پیش کرنے کی بجائے جو