خطبات محمود (جلد 17) — Page 589
خطبات محمود ۵۸۹ سال ۱۹۳۶ تھے۔پھر ڈھالیں نکلیں تو جن کے پاس صرف تیرکمان تھے وہ کمزور ہو گئے۔جب سکندر نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اسے زیادہ تر اسی وجہ سے فتح حاصل ہوگئی کہ اس کے پاس اعلیٰ قسم کی ڈھالیں تھیں۔وہ صرف چند ہزار آدمیوں کے ساتھ آیا تھا اس کی فوج کی تعداد بعض حملوں میں چار سے بارہ ہزار تک بیان کی جاتی ہے مگر اُس نے اسی سے ایران اور ہندوستان کی بڑی بڑی تعداد رکھنے والی فوجوں کا مقابلہ کیا اور اُن کو شکست دی۔ڈھالوں کے بعد منجنیقیں نکلیں اور ان کے ذریعہ دور دور پتھر پھینکے جانے لگے۔اس کے بعد بارود نکلا، پھر رائفلیں اور تو ہیں ایجاد ہوئیں اور اب گیس پھینکنے والے ہم اور ہوائی جہاز ایجاد ہوئے ہیں اور ایک ایک ہوائی جہاز سینکڑوں گاؤں تباہ کر سکتا ہے۔ایسے ایسے زہریلے بم ایجاد ہوئے ہیں کہ ایک بم سے بارہ میل کے رقبہ کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔یہ بم ہوائی جہازوں سے پھینکے جاتے ہیں اور نیچے کے لوگ ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔تو اب دنیا میں تعداد کوئی چیز نہیں بلکہ طاقت کے دوسرے ذرائع ہیں۔پھر کیا ایک مؤمن کیلئے یہ شرم کی بات نہیں کہ دوسرے لوگ جو غیر مؤمن ہیں وہ تو تعداد کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے بلکہ طاقت کیلئے تعداد کے مقابلہ میں ہوائی جہازوں ، بموں اور توپوں پر انحصار رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خواہ دشمن کتنی زیادہ تعداد میں کیوں نہ ہو ہم اسے زیر کریں گے اور ایک مؤمن سمجھے کہ خدا تعالیٰ کی طاقت ہوائی جہاز جتنی بھی نہیں ، توپ اور بم جتنی بھی نہیں۔ایک اکیلا انسان ایک جہاز سے بم پھینک کر بارہ میل علاقہ کا جس کی آبادی اوسط آبادی کے لحاظ سے تین ہزار بنتی ہے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے لیکن ایک مؤمن کا اتنا ایمان بھی نہ ہو کہ اس کے خدا کی ہوائی جہاز کے برابر بھی طاقت ہے۔پس جو بچے مؤمن ہیں وہ جیتنے کیلئے تعداد کا کبھی خیال بھی نہیں کرتے وہ اگر غلطی کر رہے ہیں تو یہ کہ تھوری تعداد کے ساتھ بھوں پر حملہ کر دیا۔ایسی مثالیں اسلامی تاریخ میں کثرت سے ملتی ہیں کہ پچاس ساٹھ یا سو آدمیوں نے ساری فوج پر حملہ کر دیا مگر ایسی کوئی مثال نہیں کہ دشمن کی زیادہ اون فوج پر مسلمانوں نے حملہ مزید کمک کے آنے پر ملتوی کر دیا۔پچاس اور ساٹھ مسلمانوں نے پچاس پچاس اور ساٹھ ساٹھ ہزار کفار پر حملہ کر دیا اور مارے گئے مگر ڈر کر پیچھے نہیں ہے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور قرآن شریف میں بھی ہمیں یہی بتاتا ہے كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِاِذْنِ اللهِ کہ بہت ہی تھوڑی جماعتیں تم سے پہلے گزری ہیں جو اللہ تعالیٰ کے