خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 588

خطبات محمود ۵۸۸ سال ۱۹۳۶ اپنی تعداد بڑھانے کی اتنی کوشش نہیں کرنی چاہئے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں اپنی تعداد بڑھانے کی کوشش ہی نہیں کرنی چاہئے بلکہ یہ ہے کہ تعداد بڑھاتے وقت ہماری غرض یہ نہیں ہونی چاہئے کہ ہمیں فتح و کامیابی حاصل ہو بلکہ جماعت بڑھانے کی غرض یہ ہونی چاہئے کہ اس طرح صداقت پھیلتی ہے اور خدا تعالیٰ کا نام قائم ہوتا ہے۔دنیا میں لوگ جتھے اس لئے بناتے ہیں کہ مضبوط ہو جائیں اور اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں کہ تا غالب آجائیں مگر اسلام تبلیغ کا حکم ہمیں اس لئے نہیں دیتا کہ ہم زیادہ ہو جائیں کیونکہ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارا تو کل خدا پر ہو کسی بندہ پر نہ ہو۔پس مؤمن اور غیر مؤمن دونوں تبلیغ کرتے ہیں مگر جبکہ غیر مؤمن اپنی تعداد بڑھانے کیلئے تبلیغ کرتا ہے مؤمن صرف اپنے گمراہ بھائی کو ہدایت دینے کیلئے تبلیغ کرتا ہے اور اس لئے تبلیغ نہیں کرتا کہ کوئی شخص اس کے ساتھ شامل ہو کر اس کی طاقت بڑھائے پس وہ رحم کرتا ہے۔اسلامی و غیر اسلامی تبلیغ میں یہی فرق ہے۔اسلام کی تبلیغ جذبہ رحم کے ماتحت دوسرے کو تباہی سے بچانے کیلئے ہوتی ہے اور اپنی طاقت کو بڑھانے کیلئے مؤمن کی نگاہ بندوں پر نہیں بلکہ خدا پر ہوتی ہے لیکن جب ایک غیر مسلم یا غیر مؤمن ( ہوسکتا ہے کہ ایک شخص مسلم ہومگر مؤمن نہ ہو) تبلیغ کرتا ہے تو وہ اپنی جان پر رحم کرتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے میں کمزور ہوں دوسرے کو اپنے ساتھ شامل کر کے اس کے ذریعہ اپنی جان بچاؤں مگر اس کے برعکس مؤمن اور مسلم دوسرے پر رحم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر فضل کر کے مجھے نجات دی ہے اس لئے مجھے چاہئے کہ دوسرے کو بھی گڑھے سے بچاؤں۔مؤمن کی تبلیغ جتھہ بندی کیلئے نہیں بلکہ ہدایت کیلئے ہوتی ہے۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ فتح و کامیابی کیلئے تعداد بڑھانے کی کوشش نہ کرو تو میرا یہ مطلب نہیں کہ تعداد بڑھانے کی کوشش ہی نہ کرو بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس غرض کو مد نظر رکھ کر نہ کرو۔تعداد بڑھانے کی کوشش ضرور کرو مگر اس غرض سے کہ خدا تعالیٰ کا نام روشن ہو ، بھولے بھٹکے بندے راہ راست پر آجائیں۔غلبہ اور فتح و کامیابی کی بنیاد اس امر پر ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا امر حاصل ہو اور جب اللہ تعالیٰ کا امر حاصل ہو جائے تو بڑے لوگ کیا کر سکتے ہیں۔پرانے زمانہ میں تلواروں کا رواج تھا اور لوگ اچھی اچھی تلوار میں جمع کرتے تھے اور جن کے پاس زیادہ اچھی تلواریں ہوتی تھیں لوگ ان سے ڈرتے تھے۔پھر تیر نکلے تو جن کے پاس اچھے تیر کمانیں ہوں وہ جیت جاتے