خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 584

خطبات محمود ۵۸۴ سال ۱۹۳۶ تدبیروں کا نتیجہ ہے؟ میں تو جب اُس زمانہ کی جماعت پر نگاہ دوڑاتا ہوں جب خلافت کا کام خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا اور آج کی جماعت کو دیکھتا ہوں تو میں خود جس کے ہاتھ میں یہ سب کام ہوا اپنے ذہن میں اسے ایک خواب سمجھتا ہوں۔آج ہماری طاقت خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلی طاقت سے سینکڑوں گنے زیادہ ہے، آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم سینکڑوں گنے زیادہ وسیع علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ بیسیوں تو میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی نہیں جانتی تھیں آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ان میں ہماری جماعتیں قائم ہیں۔پس میں تو اس ترقی پر جب نگاہ ڈالتا ہوں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک خواب ہے اور میری اس حالت کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے وہ رات دیکھی ہے جس سے پہلے دن حضرت خلیفتہ امیج اول کی وفات ہوئی۔اس رات مولوی محمد علی صاحب نے ایک ٹریکٹ تمام جماعت میں تقسیم کیا جس میں لکھا تھا آئندہ کسی خلیفہ کی کوئی ضرورت نہیں۔صرف ایک پریذیڈنٹ ہونا چاہئے اور وہ بھی چالیس سال سے اوپر کی عمر کا ہو اور پھر غیر احمدیوں کو کافر نہ کہتا ہو۔ادھر ہمیں یہ نظر آتا تھا کہ جماعت کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے،سارے عہدے ان کے قبضے میں ہیں اور خزانہ بھی انہی کے ماتحت ہے اور اس پر بھی انہی کا قبضہ ہے۔وہ رات جنہوں نے قادیان میں گزاری ہے وہ جانتے ہیں کہ جماعت کیسی خطرناک حالت میں سے گزری ہے۔اس وقت کی حالت بالکل ایسی ہی تھی جیسے پانی پر ایک بلبلہ ہو اور اچانک ایک تیز آندھی اُسے مٹانے کیلئے آجائے۔ایک تیز آندھی کے مقابلہ میں بلبلے کی کیا حیثیت ہوا کرتی ہے ہر شخص اس کا اندازہ آسانی سے لگا سکتا ہے۔بلبلہ تیز آندھی کے مقابلہ میں ایک بالکل بے حقیقت سے ہوتا ہے مگر کوئی کیا جانتا ہے کہ یہی بلبلہ ایک دن گنبد خضراء بننے والا ہے اور آسمان کی طرح دنیا پر چھا جانے والا ہے۔بلبلہ بلبلہ ہی تھا اور طوفان طوفان ہی تھا مگر اس بلبلہ کے اندر جو ہوا بھری ہوئی تھی وہ معمولی ہوا نہ تھی بلکہ خدا کی روح تھی وہ بڑھی ، وہ ترقی پائی ، وہ مضبوط ہوئی یہاں تک کہ ایسی چھت بن گئی جس کے نیچے ساری قوموں نے آرام پایا۔پس کون ہے جو مؤمن کو ڈرا سکے کون ہے جو اُسے خائف کر سکے کہ مؤمن کی طاقت اس کے نفس سے نہیں آتی بلکہ اس کے خدا کی طرف سے آتی ہے۔ایک تلوار جو خالی پڑی ہوئی ہو وہ ایک بچہ کو بھی زخمی نہیں کر سکتی لیکن ایک معمولی سی چھڑی مضبوط انسان کے ہاتھ میں جا کر دوسرے انسان کا سر بھی تو ڑسکتی ہے۔پس