خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 583

خطبات محمود ۵۸۳ سال ۱۹۳۶ ۱۹۱۳ء میں میں نے رویا دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جن کی ایک چوٹی سے دوسری چوٹی کی طرف میں جانا تج چاہتا ہوں۔وہ پہاڑ ایسے ہی ہیں جیسے صفا اور مر وہ۔لیکن صفا اور مروہ کے درمیان جو جگہ تھی وہ تو اب پاٹ گئی ہے مگر خواب میں جو دو پہاڑ میں نے دیکھے ان کے درمیان جگہ خالی تھی۔جب میں ایک چوٹی سے دوسری چوٹی کی طرف جانے لگا تو مجھے ایک فرشتہ ملا اور کہنے لگا جب تم دوسری چوٹی کی طرف جانے لگو گے تو راستہ میں تمہیں بہت سے شیطان اور جنات ڈرائیں گے اور تمہاری توجہ اپنی طرف پھرانا چاہیں گے مگر باوجود اس کے کہ وہ ہر رنگ میں تمہیں ڈرائیں تمہیں اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیں تم ان کی طرف نہ دیکھنا اور یہی کہتے جانا کہ ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ، خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ “۔اس کے بعد میں جب چلا تو راستے میں میں نے دیکھا کہ ایک وسیع جنگل ہے جس میں سے عجیب عجیب شکلیں نکل نکل کر مجھے ڈرانا چاہتی ہیں، کہیں ہاتھی نکلتے ہیں اور وہ مجھے ڈراتے ہیں، کہیں چیتے نکلتے ہیں اور مجھے ڈراتے ہیں کہیں خالی سر آ جاتے ہیں اور مجھے خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کہیں بغیر سروں کے دھڑ آ جاتے ہیں۔غرض عجیب عجیب رنگوں اور عجیب عجیب شکلوں میں وہ مجھے ڈراتے اور میری توجہ اپنی طرف پھرانا چاہتے ہیں مگر جب میں کہتا ہوں خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ تو وہ سب شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔غرض اسی طرح میں چلتا گیا یہاں تک کہ منزل مقصود پر پہنچ گیا۔تو در حقیقت اس قسم کے لوگوں کی باتوں کو سُن کر اس فکر میں پڑ جانا کہ فلاں نے فلاں پر یہ اعتراض کیا ہے فضول بات ہے۔مؤمن کا کام یہ ہے کہ جب وہ اس قسم کی کوئی بات سنے تو ذمہ دار لوگوں تک اُسے پہنچا دے مگر یہ کہ منافق جن لوگوں پر الزام لگائے اُن الزامات کی تحقیق کی جائے یہ بیوقوفی کی بات ہے۔اگر واقعہ میں انہیں کوئی اعتراض ہے اور وہ منافق نہیں تو کیوں وہ اس طریق کو اختیار نہیں کرتے جو شریعت نے مقرر کیا ہے۔گھروں میں بیٹھ کر باتیں کرنے اور دوسروں پر اعتراض کرنے کا مطلب ہی کیا ہے۔پس ہر دوست کو اس طرف سے بالکل آنکھیں بند کر کے فیصلہ کر لینا چاہئے کہ میں ہی ہوں جس نے یہ کام کرنا ہے۔خواہ میرے بیوی بچے ، عزیز دوست اور رشتہ دار سب مجھے چھوڑ دیں مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں میں خود اس کام کو کروں گا اور جب دوست اس قسم کا پختہ ارادہ کر لیں گے تو خود بخود کام میں سہولتیں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔اب تک جو کام ہوا ہے کیا وہ ہماری