خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 56

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء لوگوں نے ان کے جھوٹ کو دیکھ لیا ہے تو ان کے پرچوں کو پڑھنے کی ضرورت نہیں۔باقی دشمن سے بھی غلط بات کبھی منسوب نہ کرو ہمیشہ سچی بات کرو۔ہم نے دنیا کو جھوٹ سے نہیں بلکہ اخلاق سے فتح کرنا ہے۔پس تم اپنی ترقیوں کی بنیا دسچائی اور تقویٰ پر رکھو اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اور یاد رکھو کہ وہ ہمیشہ متقیوں کا ہی ساتھ دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات سے پتہ لگتا ہے کہ فتح ہماری ہے اور جس طرح ہائی کورٹ سے ڈگری حاصل ہو جانے کے بعد کوئی نہیں گھبرا تا اسی طرح تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔شہید گنج ایجی ٹیشن شروع ہوئی تو حکومت نے کہہ دیا کہ ہائیکورٹ نے سکھوں کے حق میں فیصلہ کیا ہوا ہے تم اس فیصلہ کو بدلوا لو ہم تمہیں دلا دیں گے۔پس کیا تمہیں خدا کے فیصلہ پر اتنا بھی اعتماد نہیں جتنا ہائی کورٹ کے فیصلہ پر ہوتا ہے اور یہ خدا کا فیصلہ ہے کہ دنیا ہمارے ہاتھ پر فتح ہوگی۔پس کوئی خواہ چیں کرے یا ہیں ، دنیا اسلام کے نام پر ہمارے ہاتھوں فتح ہوگی اور جو لوگ آج مخالف ہیں گل اسلام اور احمدیت کی صداقت کے قائل ہو کر اسلام اور احمدیت کی شان کے بڑھانے والے ہوں گے۔وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ۔ل النساء: ١٠٣ ( الفضل ۲۳ / جنوری ۱۹۳۶ء) جامع الصغير للسيوطی صفحہ ۷ مطبوعہ مصر ۱۳۲۱ ھ میں یہ الفاظ ہیں اتقوا مواضع التهم المائدة: ۲۵ بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدرا ٹٹ پونجئے : تھوڑی پونجی یا سرمائے والا