خطبات محمود (جلد 17) — Page 537
خطبات محمود ۵۳۷ سال ۱۹۳۶ ہرگز اس فرض کو ترک نہیں کر سکتا جو مجھ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کیا گیا ہے ۵۔پس جس کا خدا ہو گیا اُس کا سب کچھ ہو گیا۔اب جبکہ دنیا کا سب کچھ ہی اُس کا ہے تو اس کی مملوکہ چیزوں کی اس کو لالچ دلانے کے کیا معنی؟ بھلا کیا کوئی شخص کسی کو اپنے ہی مال میں سے کچھ روپیہ نکال کر اس کو لالچ دلا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اور جس شخص کو خدا تعالیٰ زمین و آسمان کی بادشاہت دے چکا ہو ایسے شخص کو اگر کوئی یہ کہے کہ ہم تم کو فلاں دنیا وی عہدہ دے دیتے ہیں تو وہ کیا اس بات پر خوشیاں منانے لگے گا؟ قطعاً نہیں۔اور جبکہ دنیا کے بادشاہ بھی اتنی قدرت کے مالک ہیں کہ ان کے سپاہیوں کی طرف اگر کوئی شخص بُری نظر سے دیکھے تو اس کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں تو کیا تم خیال کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے سپاہیوں کو نقصان دینے کا ارادہ رکھنے والا اللہ تعالیٰ کے غضب محفوظ رہ سکتا ہے؟ دیکھ لو کہ اکیلے سید عبداللطیف کی شہادت کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ کا بل میں تباہ و برباد کر دیئے گئے اور اس تباہی کی سید صاحب مرحوم نے قبل از وقت پیشگوئی بھی فرما دی تھی اِن الفاظ میں کہ میری موت کے چھ دن بعد جمعرات کے روز اس شہر پر تباہی آجائے گی۔جب انسان عبودیت کی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہاتھ ڈالنا پسند بھی نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر ہمیشہ بلندی کی طرف اُٹھتی ہے اس لئے کہ اس کی امید گاہ وہ ذات ہوتی ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ جب ابھی میری عمر کوئی پندرہ سال کی تھی میں لکھنو میں طب پڑھنے کی غرض سے گیا چنا نچہ وہاں کے ایک مشہور طبیب کے پاس پہنچا اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا۔میری سادہ حالت دیکھ کر اُس طبیب کے ساتھی کہنے لگے کہ یہ لڑکا کہاں سے آگیا ہے؟ اور بعض مجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہنسنے بھی لگ گئے اور کہنے لگے اس کو یہ آداب کس نے سکھائے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ یہ آداب مجھے اُس اُمی نبی نے سکھائے ہیں جس نے ساری دنیا کو آداب سکھائے۔اس جواب میں میرا اشارہ اس طرف بھی تھا کہ انہوں نے باوجود مسلمان ہونے کے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔چنانچہ میری اس بات کا حکیم صاحب پر بہت اثر ہوا اور انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کس غرض کیلئے آئے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ آر