خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 517

خطبات محمود ۵۱۷ سال ۱۹۳۶ دوسالہ مؤمن بلکہ وہی کام دے سکتے ہیں جو بغیر کسی شرط کے ہمیشہ قربانیوں کیلئے تیار رہنے والے ہوں۔اب انشَاءَ اللہ تیسرے سال کی تحریک آنے والی ہے۔میں سمجھتا ہوں کئی ہیں جو اس میں بھی رہ جائیں گے۔وہ دوسالہ مؤمن ہوں گے جو تیسری تحریک کے وقت گر جائیں گے۔غرض کچھ لوگ اس سال گر گئے اور کچھ لوگ اگلے سال گر جائیں گے اور پھر کچھ سہ سالہ مؤمن ہوں گے جو تین سال قربانیوں پر صبر کر سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔یہ سب لوگ جھڑتے چلے جائیں گے اور گرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ صرف وہ مؤمن رہ جائیں گے جو حیاتی مؤمن ہوں گے یعنی ساری زندگی ہی وہ خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کرنے میں گزار دیں گے اور یہی وہ لوگ ہوں گے جن کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ اپنے دین کو فتح دے گا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے جب تک خبیث اور طیب میں فرق کر کے نہ دکھلا دیں۔اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ خبیث اور طیب میں ضرور فرق کر کے دکھائے گا جو لوگ گھبرا ر ہے ہیں اور خیال کر رہے ہیں کہ اس ذریعہ سے میں جماعت کو چھوٹا کر رہا ہوں وہ نادان ہیں وہ جانتے ہی نہیں کہ جماعت ترقی کس طرح کرتی ہے، وہ سمجھتے ہی نہیں کہ جماعت کی مضبوطی اور کمزوری کا کیا معیار ہوا کرتا ہے۔کیا ایک لمبی زنجیر جس کی بعض کڑیاں کمزور ہوں وہ مضبوط ہوتی ہے یا وہ چھوٹی زنجیر جس کی ساری کڑیاں مضبوط اور پائیدار ہوں۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہی زنجیر کام آسکتی ہے جس کی ساری کڑیاں مضبوط ہوں۔انگریزی میں ایک ضرب المثل ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ زنجیر کی طاقت سب سے کمزور کڑی میں ہوتی ہے۔یعنی سب سے کمزور کڑی جتنی طاقت کی ہوتی ہے اتنی ہی زنجیر کی طاقت ہوتی ہے۔اسی طرح افراد کے ایمان کی مضبوطی ہی ایسی چیز ہے جو ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کر سکتی ہے خواہ جماعت کے افراد تھوڑے ہوں یا بہت۔اسی لئے میں نے تحریک جدید کو لمبا پھیلایا ہے تا میں دیکھوں کہ کہ کتنے مخلص ہیں جو اس دوڑ میں میرے ساتھ چلتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے پچھلے سال موجودہ سال کی نسبت زیادہ لوگوں کے وعدے پورے ہوئے تھے۔چنانچہ ابھی میں نے نقشہ منگوا کر دیکھا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے سال آج کے دن تک ۷۴ ہزار روپیہ وصول ہو چکا تھا۔مگر اس سال آج کے دن تک تریسٹھ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے حالانکہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت وعد