خطبات محمود (جلد 17) — Page 506
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ اور اسی ہندوستانی عادت کے ماتحت تھے کہ سو گز واروں گز بھر نہ پھاڑوں“۔جان قربان کرنے کے دعوے زور شور سے کئے جائیں اور اطاعت بالکل نہ کی جائے اور میں مجبور ہوں کہ سمجھوں کہ محض نمائش اور جھوٹے مظاہرے کی خاطر میری ہدایت کی دیدہ دانستہ اور جان بوجھ کر نا فرمانی کی گئی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ اس غلطی کا خمیازہ قادیان کے دوستوں کو بھی بھگتنا پڑا اور جو مجھے تکلیف ہوئی وہ بھی کچھ کم نہیں۔میں نے صراحتا کہ دیا تھا کہ وہ لوگ جو دوستوں کو جمع کر کے تو لے آتے ہیں مگر پھر مصافحہ کرنے سے انہیں روکتے ہیں ان کا روکنا مجھ پر بہت ہی گراں گزرتا ہے۔جب لوگ جمع ہو جائیں تو اُس وقت میں یہی چاہتا ہوں کہ ان سے مصافحہ کروں اور وہ لوگ جو ایسی حالت میں کہتے ہیں کہ مصافحہ نہ کرو ان کی یہ بات مجھے نہایت ہی شرمناک معلوم ہوتی ہے اس کی تحقیقات تو میں بعد میں کروں گا کہ یہ صریح نافرمانی کیونکر ہوئی لیکن میں چاہتا ہوں کہ دوستوں سے اس بات کی معذرت کر دوں کہ میرا ان سے آج مصافحہ نہ کرنا نظام کے قیام کیلئے ضروری تھا۔ہمارے ہندوستانیوں کی عموماً اور مسلمانوں کی خصوصاً سب سے بڑی لعنت یہی ہے کہ ان کے تمام کاموں میں نمائش ہوا کرتی ہے اطاعت نہیں ہوتی۔ان کی ذلت اور رسوائی کا تمام تر راز اس امر میں ہے کہ وہ سچی اطاعت اور قربانی کے مفہوم سے ناواقف ہیں۔نہ وہ خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت کرتے ہیں اور نہ ان لوگوں کی جن کے ہاتھ میں دینی یا دنیوی قیادت کی باگیں ہیں۔نہایت چھوٹی چھوٹی نمائشی باتوں کیلئے ان کی جان یوں نکلتی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں لیکن بڑے اور عملی کاموں کی طرف ان کی توجہ بالکل نہیں ہوتی۔ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے ایک حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا کہ حضور ! یہ تو بتائیے کہ حج کے دنوں میں اگر کوئی شخص جوں مار بیٹھے تو اس کی کیا سزا ہے۔انہوں نے کہا خدا کے رسول کے بھائی ، خدا کے رسول کے داما داور خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کو تم نے قتل کر دیا اور تم مجھ سے مسئلہ پوچھنے نہ آئے لیکن حج کے دنوں میں جوں مارنے والے کی سزا کے متعلق تم مجھ سے مسئلہ پوچھنے آگئے ہو۔جاؤ دور ہو جاؤ میں تم کو کوئی مسئلہ بتانے کیلئے تیار نہیں۔تو یہ