خطبات محمود (جلد 17) — Page 505
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ دریافت کیا کہ میری ہدایت کے خلاف کیوں عمل کیا گیا اور دوستوں کو جمع کر کے کیوں ایک طرف مجھے شرمندہ کیا گیا اور دوسری طرف انہیں تکلیف دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تار یہی پہنچی تھی کہ مصافحہ نہیں کرنا اس لئے ہم نے لوگوں کو جمع ہونے سے منع نہیں کیا۔مجھے اس بات پر تعجب ہوا کہ جب بالوضاحت پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے مجھ سے یہ بات دریافت کر لی تھی اور ان کی تجویز پر کہ مصافحہ سے روکا جائے میں نے کہہ دیا تھا کہ اسے میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں کو جمع ہونے دیا تو جائے اور پھر مصافحہ سے روکا جائے اس لئے دوستوں کو جمع ہونے سے ہی روک دیا جائے پھر اس قسم کی تار کیونکر دی گئی۔اور میں نے دوبارہ امیر مقامی مولوی سید سرور شاہ صاحب سے پوچھا کہ آپ کو غلطی تو نہیں لگی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تین شخصوں سے تار پڑھوائی اور سب نے یہی کہا کہ اس میں مصافحہ کو منع کیا گیا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ تار مجھے بھجوا دیں۔اس کے بعد موٹر میں بیٹھتے ہوئے نیر صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ میں نے ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کی کیا تھا اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہی تار چاہئے کہ مصافحہ نہیں ہونا چاہئے اس لئے ان کے مشورہ کے مطابق میں نے یہ تار دے دی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض نمائش کی خاطر اور صرف یہ دکھانے کیلئے کہ جب قادیان میں امام جماعت احمدیہ آتا ہے تو لوگ استقبال کیلئے جمع ہو جاتے ہیں میری حکم عدولی کرتے ہوئے اس قسم کا تار دے دیا گیا۔میں دنیا کی کسی لغت کے لحاظ سے نہیں سمجھ سکتا کہ جب وضا حنا یہ ہدایت دے دی گئی ہو کہ لوگ سٹیشن پر نہ آئیں کیونکہ سٹیشن پر ان کے آجانے کے بعد ان سے مصافحہ نہ کرنا مجھے بہت معیوب معلوم ہوتا ہے اور یہ بات مجھے بُری لگتی ہے کہ لوگ جمع ہو جائیں اور میں ان سے مصافحہ نہ کروں میری ہدایت کو ان الفاظ میں ادا کیا جائے کہ لوگ مصافحہ نہ کریں۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے ایک یہ عذر بھی کیا کہ میں نے اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سمجھا تھا کہ اگر یہ تار دی کہ لوگ نہ آئیں تو پہرے کا انتظام بھی نہ ہوگا حالانکہ تار میں آسانی سے لکھا جاسکتا تھا کہ سوائے منتظمین کے اور کوئی نہ آئے۔لیکن میرے نزدیک اپنی ذات میں بھی یہ عذ رفضول ہے اس لئے کہ جو عملہ قادیان سے باہر پہرہ کا انتظام کر سکتا ہے، ریل میں پہرہ کا انتظام کرسکتا ہے وہ قادیان میں کیوں نہیں کر سکتا۔کیا قادیان کے سٹیشن پر باہر کی نسبت زیادہ خطرات ہوتے ہیں اور سٹیشن کے باہر تو موٹر میں ہی جانا تھا۔غرض یہ عذرات بالکل نادرست اور باطل تھے