خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 486

خطبات محمود ۴۸۶ سال ۱۹۳۶ مارٹن کلارک کی طرف سے آپ پر مقدمہ کیا گیا اور الزام سے بری کرنے کے بعد مجسٹریٹ نے آپ سے کہا کہ آپ کو ان پادریوں پر جو اس مقدمہ کو اٹھانے والے ہیں مقدمہ چلانے کا حق ہے مگر آپ نے فرمایا یہ ہمارا طریق نہیں۔کرنل ڈگلس جو اُس زمانہ میں کیپٹن تھے ابھی تک زندہ ہیں اور ولایت میں ہمارے دوستوں سے ملتے رہتے ہیں اور ہمیشہ اس بات کا ذکر کیا کرتے ہیں ہیں کہ جب میں نے مرزا صاحب سے کہا کہ آپ ان پادریوں پر مقدمہ چلا سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا طریق نہیں ہم نے ان کو معاف کر دیا۔تو مؤمن کے ایک ہاتھ میں رحم اور دوسرے میں بہادری ہوتی ہے اور اُس کا سر قطب مینار کی طرح سب سے اونچا ہوتا ہے۔جب دنیا دیکھنا چاہتی ہے کہ کون ہے بہادر۔تو اُسے جواب ملتا ہے کہ مؤمن۔اور جب وہ دیکھنا چاہتی ہے کہ کون ہے رحیم تو اسے مؤمن کے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔پس یہ دونوں حصلتیں اپنے اندر بڑھاؤ کی اور پھر جو مصائب آتی ہیں ان کو آنے دو کہ وہ تمہاری ہلاکت کا نہیں بلکہ ترقی کا موجب ہیں۔اور صلى الله جب خدا تعالیٰ تمہارے رحم کا امتحان لے تو یہ دیکھو کہ ایسے وقت میں محمد رسول اللہ ﷺ اور حضر مسیح موعود علیہ السلام نے کیا کیا۔اُس وقت دشمنوں کے ظلموں پر نظر نہ ڈالو۔پھر یہ مت سمجھو کہ تمہاری آزادی اور زندگی سے ہی اسلام کی ترقی وابستہ ہے۔ممکن ہے تمہاری قید یا موت زیادہ مفید ہو۔اس بات کو خدا پر چھوڑ دو کہ وہ دیکھے کیا مفید اور مناسب ہے اور ایک بہادر اور جری انسان کی طرح ہر انجام سے بے پرواہ ہو کر (سوائے خدا کی ناراضگی کے انجام کے ) اپنی جانوں اور مالوں کو خدا کے رستہ میں ڈال دو اور جب سب مصائب کو برداشت کرتے ہوئے خدا تعالیٰ تمہیں طاقت دے تو یا درکھو کہ تم اس کی اُمت ہو جس نے مکہ والوں کو بھی معاف کر دیا تھا۔مکہ والوں کے مظالم اور آنحضرت ﷺ کے رحم کی مثال کہیں اور نہ مل سکے گی اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہرامر میں محمد رسول اللہ اللہ ہی اسوہ حسنہ ہیں۔جرات اور بہادری میں بھی اور عفو اور رحم میں بھی۔پس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو دیکھو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھو کہ کن حالات میں آپ نے دنیا کا مقابلہ کیا۔آج جبکہ خدا کے فضل سے ہمارا رعب ساری دنیا پر بیٹھ چکا ہے اور جب لاکھوں لوگ جماعت میں شامل ہیں اور تمام براعظموں میں احمدی موجود ہیں بعض لوگوں کو خیال پیدا ہوتا ہے کہ