خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 485

خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۳۶ کے درمیان جہاں مسجد کا دروازہ ہے ہم نے دیکھا کہ ہمارے بعض چچاؤں نے وہاں دیوار کھینچ دی ہے اس لئے ہم اندر سے ہو کر گھر پہنچے اور معلوم ہوا کہ یہ دیوار اس لئے کھینچی گئی ہے کہ تا احمدی نماز کیلئے مسجد میں نہ آسکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حکم دیا کہ ہاتھ مت اُٹھاؤ اور مقدمہ کرو۔آخر مقدمہ کیا گیا جو خارج ہو گیا اور معلوم ہوا کہ جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود نالش نه کریں گے کامیابی نہ ہوگی۔آپ کی عادت تھی کہ مقدمہ وغیرہ میں نہ پڑتے مگر یہ چونکہ جماعت کا معاملہ تھا اور دوستوں کو اس دیوار سے بہت تکلیف تھی اس لئے آپ نے فرمایا کہ اچھا میری طرف سے مقدمہ کیا جائے۔چنانچہ مقدمہ ہوا اور دیوار گرائی گئی۔فیصلہ سے بہت پہلے میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ میں کھڑا ہوں اور وہ دیوار توڑی جا رہی ہے اور حضرت خلیفتہ المسیح الا ول بھی پاس ہی کھڑے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔جس دن سرکاری آدمی اسے گرانے آئے عصر کے بعد میں مسجد والی سیڑھیوں سے اُترا عصر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الاوّل درس دیا کرتے تھے ، سخت بارش آئی اور حضرت خلیفہ اول بھی شاید بارش کی وجہ سے یا یونہی وہاں آ کر کھڑے ہو گئے۔اس دیوار کی وجہ سے جماعت کو مہینوں یا شاید سالوں تکالیف اٹھانی پڑیں کیونکہ انہیں مسجد تک پہنچنا مشکل تھا۔پھر مقدمہ پر ہزاروں روپیہ خرچ ہوا اور عدالت نے فیصلہ کیا کہ خرچ کا کچھ حصہ ہمارے چچاؤں پر ڈالا جائے۔کئی لوگ غصہ سے کہہ رے تھے کہ یہ بہت کم ڈالا گیا ہے ان کو تباہ کر دینا چاہئے۔جب اس ڈگری کے اجراء کا وقت آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور میں تھے۔آپ کو عشاء کے قریب رو یا یا الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ یہ بار اُن پر بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ سے وہ تکلیف میں ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ مجھے رات نیند نہیں آئے گی اسی وقت آدمی بھیجا جائے جو جا کر کہہ دے کہ ہم نے یہ خرچ تمہیں معاف کر دیا ہے۔مجھے اس معافی کی صورت پوری طرح یاد نہیں که آیا سب رقم معاف کر دی تھی یا بعض حصہ۔بچپن کا واقعہ ہے اس لئے اس کی ساری تفاصیل یاد نہیں رہیں مگر اتنا یاد ہے کہ فرمایا مجھے رات نیند نہیں آئے گی اسی وقت کسی کو بھیج دیا جائے جو جا کر کہہ دے کہ یہ رقم یا اس کا بعض حصہ جو بھی صورت تھی تم سے وصول نہ کیا جائے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ مؤمن کا رحم اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ دوسرا خیال بھی نہیں کر سکتا۔