خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 46

خطبات محمود ۴۶ سال ۱۹۳۶ء بھی نہیں کر سکتے۔پس ہمارے سامنے جو کام ہے اس کے لحاظ سے ہمیں عظیم الشان جدوجہد کی ضرورت ہے۔شاید کوئی کہے کہ ۲۵ لاکھ کے ریزرو فنڈ سے اگر دو ہزار مبلغ بھی ساری دنیا کو پیغام حق نہیں پہنچا سکتے تو اس کا فائدہ کیا؟ تو ایسے دوستوں کے وہم کو دور کرنے کیلئے میں یہ کہتا ہوں کہ مؤمن کا کام صرف جد و جہد کرنا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ غیب سے نصرت و تائید کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔رسول کریم ﷺے جنگ احد کے موقع پر ایک ہزار صحابہ کو لے کر دشمن کے مقابلہ کیلئے نکلے تو منافق کہتے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ لڑائی ہے تو ہم بھی ضرور چلتے لیکن یہ تو خود کشی ہے کیونکہ وہ لوگ سمجھتے تھے کہ ایک ہزار آدمی سارے عرب سے کسی طرح نہیں لڑ سکتا لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ یہ ایک ہزار کچھ اور کو زیر کریں گے وہ آگے کچھ اور لوگوں کو زیر کریں گے اور اس طرح یہی ایک ہزار ساری دنیا کو زیر کر لیں گے۔چنانچہ یہی ایک ہزار تھے جنہوں نے چین سے لے کر یورپ تک ساری دنیا کو فتح کر لیا۔پس مؤمن کا کام ابتدا کرنا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی ترقی ہوتی ہے کہ دس ، چالیس پچاس ہو جاتے ہیں، پچاس، سو اور سو دوسو بن جاتے ہیں اور اسی طرح یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس ہمارا کام صرف یہ ہے کہ صحیح اصول پر جن کو اسلام تسلیم کرتا ہے سلسلہ کے کام کی بنیاد رکھ دیں اور پھر امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ خود برکت دے کر ہمارے آدمیوں کو بڑھائے گا اور دشمنوں کے دلوں میں ہمارا رعب پیدا کر دے گا۔ہمارا کام یہ ہے کہ سلسلہ کیلئے جو قربانی بھی ہم سے ہو سکتی ہے کریں خواہ وہ بظا ہر کتنی تمسخر والی نظر آئے۔رسول کریم اللہ نے ایک دفعہ چندہ کی تحریک کی تو ایک صحابی نے جا کر کچھ مزدوری کی شاید کسی کے کنویں پر جا کر پانی نکالا اور اس کے عوض اُسے آدھ سیر یا تین پاؤ غلہ ملا جو اس نے لا کر چندہ میں ڈال دیا۔اُس وقت ہزاروں روپیہ کی ضرورت تھی منافق ہنتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ لڑائی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔یہ جنگ تبوک کا واقعہ ہے جو رومیوں سے درپیش تھی اور رومن حکومت اُس وقت ایسی ہی تھی جیسی آج انگریزی حکومت ہے اور اتنی بڑی حکومت سے لڑائی کیلئے کی اُس صحابی نے چند تھی جو لا کر دیئے منافق اُس پر بنتے تھے لیکن رسول کریم ﷺ کو جب اس کا علم الله ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ان کو کیا علم ہے کہ خدا کی نظر میں اس جو کی کیا قیمت ہے۔یہی جو تھے جن