خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 45

خطبات محمود ۴۵ سال ۱۹۳۶ء اگر ہندوؤں ،سکھوں وغیرہ کی جائدادیں ملالی جائیں تو صرف لاہور میں دو تین کروڑ سے کم قیمت مانی کی نہ ہوں گی۔پس یہ خیال مت کرو کہ یہ رقم زیادہ ہے دشمن کے حملہ کے مقابلہ میں تو یہ کوئی چیز ہی نہیں۔ہمارا سالانہ بجٹ کئی لاکھ کا ہوتا ہے مگر کام وسعت کے لحاظ سے کچھ نظر نہیں آتا۔یعنی دشمن کے حملہ کے پھیلاؤ کے مقابلہ میں اس کی کوئی ہستی نہیں۔دشمن کے سوا تین لاکھ مبلغین جو سب دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کے مقابلہ میں ہمارے صرف چالیس مبلغ ہیں۔اب غور کرو دونوں کا آپس میں کوئی جوڑ بھی ہے؟ ہمارے سپرد کسر صلیب کا کام کیا گیا ہے لیکن ہم ان کے مقابل پر صرف چالیس مبلغ رکھ سکے ہیں اور اس پر بھی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اتنے مبلغین کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ سوا تین لاکھ کے مجمع میں اگر چالیس کو تلاش کرنا شروع کرو تو شاید دو ہفتہ کے بعد ایک مبلغ کی کہیں اگر تا پڑتا نظر آ سکے۔پس ہماری جماعت کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ ہم کس کے مقابلہ کیلئے کھڑے ہیں۔میری سکیم یہ ہے کہ ہم قلیل زمانہ میں دشمن کے مقابلہ میں ایسی طاقت پیش کر سکیں کہ یہ اس کے مقابل میں کھڑی ہونے کی اہل سمجھی جا سکے ورنہ لاکھوں آدمیوں کے مقابلہ میں چالیس مبلغ چیز ہی کیا ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات کے لحاظ سے بھی ہمارے دو تین ہزار مبلغ ہونے چاہئیں۔ہندوستان میں اس وقت کم و بیش تین سو اضلاع ہیں اور بارہ سو تحصیلیں ہیں اگر ریاستوں کو بھی ساتھ شامل کر لیا جائے تو دو ہزار کے قریب تحصیلیں بن جاتی ہیں۔ہر تحصیل میں کم و بیش پانچ سو گاؤں ہوتے ہیں۔پس ہندوستان میں اندازاً دس بارہ لاکھ گاؤں یا قصبے ہیں۔اب سال کے دن تین سو ساٹھ ہوتے ہیں۔پس اگر ہمارے دو ہزار مبلغ ہوں تو ڈیڑھ سال میں صرف چند گھنٹوں کیلئے ہر گاؤں میں جاسکتے ہیں اور اگر ساری دنیا کو ہندوستان سے پانچ گنا ہی سمجھ لیا جائے گو علاقہ کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر دو ہزار مبلغ ہوں تو دس سال میں ایک گاؤں میں ایک مبلغ ایک دن کیلئے جاسکے گا لیکن چونکہ سفر کا وقت بھی اس میں شامل ہے اس لئے حقیقتاً ہر گاؤں میں ایک مبلغ صرف ایک دو گھنٹہ ہی ٹھہر سکے گا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد یہ کام کیا ہے کہ ہم ساری دنیا کو احمدی بنائیں اور ظاہر ہے کہ ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ ایک کی گاؤں میں ٹھہرنے سے گاؤں کے لوگوں کا مذہب تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔اس عرصہ میں تو ہر شخص کے حصہ میں ایک سیکنڈ بھی نہیں آتا۔دو ہزار مبلغ گویا دس سال میں ساری دنیا کے آدمیوں کو سلام