خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 435

خطبات محمود ۴۳۵ سال ۱۹۳۶ میں نے اس نقص کی وجوہ بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انسان میں ایک قوتِ مؤثره ہوتی ہے اور ایک قوت متاثرہ ہوتی ہے۔اور پھر ان دونوں قوتوں کے معاون ہوتے ہیں اور کامیابی کیلئے صرف قوت مؤثرہ کا ہونا ضروری نہیں بلکہ قوتِ متاثرہ کا اس کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے۔اگر قوت متاثرہ اس حد تک نہ ہو جس حد تک قوت مؤثرہ ہو تب بھی نتائج اطمینان کی بخش نہیں نکل سکتے اور اگر قوت متاثرہ اس حد تک نہ ہو جس حد تک قوت متأکثرہ ہو تب بھی نتائج انسان کی امید کے مطابق نہیں نکل سکتے۔میں نے بتایا تھا کہ قوت مؤثرہ جو قو می دماغ کی حیثیت رکھتی ہے جب کوئی بات عمل میں لانا چاہتی ہے تو انسان کی قوتِ ارادی کو حرکت میں لاتی ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے انسان میں ایک مادہ رکھا ہوا ہے جو قوت ارادی کی بات کو مانتا اور اُسے تسلیم کرتا ہے جسے عبودیت بھی کہتے ہیں۔اگر عبودیت کا مادہ انسان میں نہ ہو تو قوت ارادی کی موجودگی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔جیسے بعض ہاتھ مفلوج ہوتے ہیں دماغ حکم دیتا ہے کہ پلو مگر وہ کی نہیں ہل سکتے ، بعض پاؤں مفلوج ہوتے ہیں دماغ حکم دیتا ہے کہ چلو مگر وہ نہیں چلتے ، بعض زبانیں کی مفلوج ہوتی ہیں دماغ حکم دیتا ہے کہ بولومگر وہ نہیں بولتیں ، اسی طرح بعض آنکھیں مفلوج ہوتی ہیں دماغ حکم دیتا ہے کہ دیکھو مگر وہ نہیں دیکھ سکتیں تو اگر قوت متاثرہ موجود نہ ہو یا بہت ہی کمزور ہو تو اُس وقت قوت مؤثرہ بریکار اور معطل ہو جاتی ہے اور اگر قوت مؤثرہ بریکار اور معطل ہو تو قوت متاثرہ کو چونکہ حکم دینے والا کوئی نہیں رہتا اس لئے وہ جس طرح چاہتی ہے کام کرتی جاتی ہے اور اس وجہ سے ان کاموں کے مفید نتائج نہیں نکلتے۔جیسے ہر گھر میں ماں باپ بچوں پر حکومت کرتے ہیں اب کی اگر بچے اپنے ماں باپ کے حکموں کو نہ مانیں تب بھی گھر کا امن قائم نہیں رہ سکتا اور اگر ماں باپ میں عقل نہ ہو اور وہ بچوں کی صحیح تربیت اور ان کی نگرانی نہ کر سکیں تب بھی امن نہیں رہ سکتا۔تو اصلاح اعمال کیلئے دونوں قوتوں کا درست ہونا ضروری ہوتا ہے اور میں نے بتایا تھا کہ ہماری کی قوت مؤثرہ میں کوئی نقص نہیں اور اگر کسی کی قوت مؤثرہ میں کوئی نقص ہے تو بہت ہی کم ہے ورنہ ارادہ کے طور پر ہماری جماعت کے تمام افراد چاہتے ہیں کہ انہیں تقویٰ اور طہارت حاصل ہو، وہ اسلامی احکام کی اشاعت کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا قرب حاصل کر سکیں۔پس ہماری قوت ارادی تو مضبوط ہے اور طاقتور ہے پھر بھی نتائج صحیح نہیں نکلتے تو یقیناً دو باتوں میں سے ایک