خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 420

خطبات محمود ۴۲۰ سال ۱۹۳۶ ہوتے رہے ہیں دفن ہونے کا کوئی حق نہ ہوگا۔یہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ان کے حصہ میں ایک گھماؤں سے کم زمین آئے گی تو حسنِ سلوک کا نمونہ پیش کرنے کیلئے میں ایک گھماؤں زمین کی قیمت احرار کو دے دوں گا تا کہ کم سے کم ایک گھماؤں کا قبرستان ہو اور ان لوگوں کو لمبے عرصہ تک پھر قبرستان کی فکر نہ کرنی پڑے اور اگر اُن کا حصہ زیادہ ہے تو اتنی زمین کی جو ان کے حصہ میں آتی ہوتی قیمت ادا کر دوں گا۔لیکن اگر ان کے دوست اور ان کو اُکسانے والے جن کے پاس مسلمانوں کے چندے سے ہی خریدی ہوئی زمین موجود ہے مجھ سے قیمت لے کر بھی ان کو زمین دینے کیلئے تیار نہ ہوں تو وہ مجھے لکھ دیں کہ احرار قیمتا بھی ہمیں زمین نہیں دیتے پھر میں ان کو خو دزمین دے دوں گا۔یہ بہترین تجویز میں نے ان کو مر دے پاک کرنے کی بتائی ہے اور اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو دنیا کی سمجھ لے گی کہ پا کی اور ناپاکی کا سوال محض ایک ڈھونگ ہے جو دنیا کو دھوکا دینے کیلئے رچایا گیا ہے ورنہ حقیقتاً ہمارے ساتھ دفن ہونے کو وہ اپنے لئے پاکیزگی کا موجب سمجھتے ہیں جبھی تو دور جانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔وہ یقین رکھتے ہیں کہ شاید احمدیوں کے طفیل ہمارے مُردے بھی امن پا جائیں ور نہ ایسی سہل تجویز پر ضرور عمل کرتے۔میں پھر خلاصہ اپنی تجویز دُہرا دیتا ہوں۔میری تجویز یہ ہے کہ ایسے احراری خاندان احرار کی خرید کردہ زمین میں سے جتنی زمین ان کے حصہ میں اس قبرستان سے آتی ہے لے لیں اور قیمت میں دوں گا ، ہاں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اگر ان کے حصہ میں دو چار کنال ہی آتی ہوگی تو میں ایک گھماؤں ضرور لے دوں گا۔اور اگر گھماؤں سے زیادہ ہوگی تو اتنی ہی لے کر دوں گا جتنی ان کے حصہ میں آتی ہوگی لیکن ایسے لوگوں کو اپنے اور اپنے خاندانوں کی ایک فہرست گورنمنٹ میں دینی ہوگی کہ آئندہ ہمارا دوسرے قبرستانوں سے کوئی تعلق نہ ہوگا، باقی جو غیر احمدی رہ جائیں گے ان کو پھر کبھی ایسا سوال اُٹھانے کا حق نہیں ہوگا کہ احمدی یہاں دفن نہیں ہو سکتے اور جو اس فہرست میں شامل ہوں گے انہیں یہ حق نہ ای ہوگا کہ اپنے مُردے اس قبرستان یا کسی دوسرے قبرستان میں جہاں احمدی اپنے مُر دے دفن کرتے ہیں لے جائیں۔یہ دو تجویزیں میں قادیان کے غیر احمدی باشندوں کے سامنے پیش کرتا ہوں اور اپنی ذات کی طرف سے کرتا ہوں۔یعنی اس کا بوجھ جماعت احمدیہ پر نہیں بلکہ میری ذات پر ہوگا۔اب قادیان کے احرار کو چاہئے کہ وہ مرکز احرار کو لکھیں کہ ہمیں پہلے علم نہ تھا اب آپ نے بتایا ہے