خطبات محمود (جلد 17) — Page 388
خطبات محمود ۳۸۸ سال ۱۹۳۶ء ا اصلاح زیادہ مشکل ہوتی ہے اور عقیدہ کی اصلاح اس کی نسبت بہت زیادہ آسان ہوتی ہے۔عقیدہ میں جب ہم کہتے ہیں کہو اللہ ایک ہے تو دوسرا جھٹ اسے مان لیتا ہے لیکن عمل میں کئی جگہ عادت روک بن کر کھڑی ہو جاتی ہے اور وہ انسان کو بے بس کر دیتی ہے۔ہم ایک شخص سے کہتے ہیں تمہیں سچ بولنا چاہئے۔وہ ہماری نصیحت کو تسلیم کرتا اور کہتا ہے ہاں جی سچ بولنا چاہئے لیکن ذرا آگے چلتا ہے تو جھوٹ بول لیتا ہے کیونکہ جھوٹ بولنے کی اسے عادت ہو چکی ہوتی ہے۔وہ ہم سے کہتا ہے میں ہمیشہ سچ بولوں گا لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس کے بیٹے کی کسی سے لڑائی ہو جاتی ہے پولیس تحقیقات کرتی ہے تو وہ پولیس کی گرفت سے اپنے بچے کو بچانے کیلئے کہہ دیتا ہے میرا بچہ تو یہاں تھا ہی نہیں وہ تو لا ہور گیا ہوا تھا۔یا ہم سے کہہ جاتا ہے میں آئندہ با قاعدہ نماز پڑھوں گا اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز پڑھواؤں گا لیکن جب گھر پہنچتا ہے اور اپنے بچوں سے کہتا ہے اُٹھو نماز کیلئے مسجد میں چلیں تو اُسے پھر خیال آجاتا ہے اور باہر جھانک کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے اس وقت سخت کو چل رہی ہے بہتر ہے یہیں نماز پڑھ لیں مگر گھر پر کون نماز پڑھتا ہے۔مسجد میں جاتے ہوئے تو اسے ہر کوئی دیکھتا ہے اور اسے بھی خیال آتا ہے کہ مجھے تعہد سے نمازیں پڑھنی چاہئیں لیکن جب اس کے دل میں گھر پر نماز پڑھنے کا خیال آتا ہے تو چونکہ گھر پر اُسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اس لئے آہستہ آہستہ نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔یا صبح کے وقت جب بچہ کو جگانا ضروری ہوتا ہے اسے خیال آ جاتا ہے کہ بچہ ہے اس کی نیند خراب ہو جائے گی ، بیوی رات بھر جاگتی رہی ہے اسے بھی نہیں جگانا چاہئے۔یہی امانت، دیانت اور راستی کا حال ہے۔غرض ہر کام کے کرتے وقت کئی روکیں حائل ہونے لگتی ہیں لیکن عقیدہ کے بارے میں ایسی روکیں حائل نہیں ہوتیں۔پھر اعمال کے بارہ میں یہ لوگوں کا نقال بنتا ہے۔ایک شخص کو دیکھتا ہے کہ وہ اکثر کر جارہا ہے اس کے سر پر ہیٹ ہے اس کی مونچھیں اور ڈاڑھی منڈھی ہوئی ہیں۔یہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں بھی اڑھائی روپے کی ٹوپی سر پر رکھ کر انگریز بن جاؤں تو کیا حرج ہے لوگ مجھے بھی ” صاحب سلام کہیں گے اور اس خیال کے آنے پر وہ دوسرے کی نقل میں ویسا ہی ہیٹ پہننا شروع کر دیتا ہے لیکن عقیدہ میں نقل کا خیال نہیں آتا کیونکہ وہ مخفی چیز ہے۔غرض اعمال کے بارہ میں ایسی روکیں موجود ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے ہٹا دیتی اور اس کے قرب سے پرے پھینک دیتی