خطبات محمود (جلد 17) — Page 379
خطبات محمود ۳۷۹ سال ۱۹۳۶ گزارہ کر رہا ہوں اگر چندہ دے دیا تو میرے بیوی بچے کیا کھائیں گے۔یا اسی طرح جانی قربانی کا سوال ہے ، یا دین کیلئے وطن چھوڑنے کا سوال ہے ایسے موقعوں پر معاً انسان کو اپنے بیوی بچوں کا خیال آ جاتا ہے۔وہ کہتا ہے اگر میں غیر ملک کو چلا گیا تو میری بیوی کو کھانے پینے کا سامان کون لا کر دیا کرے گا ، بچوں کی نگرانی کون کرے گا۔غرض انسان کے جذبات اور اس کی محبت کے تعلقات جن وجودوں سے وابستہ ہیں عمل کے میدان میں وہ قدم قدم پر روک بنتے اور اس سے ی درخواست کرتے ہیں کہ دیکھنا ! ہمارا خیال رکھنا۔دیکھنا ! ہمارا خیال رکھنا۔پس اس لئے قدم قدم پر وہ عمل کے راستہ سے اسے ہٹا دیتے ہیں لیکن عقیدہ کے بارہ میں کوئی ایسی بات پیش نہیں آتی۔جب یہ عقیدہ میں ایک ہوتے ہیں تو میاں بیوی اور بچے سارے ہی خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں ، سارے ہی محمد ﷺ کی صداقت کے قائل ہوتے ہیں، سارے ہی قرآن مجید کو خدا تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرتے ہیں اور ان عقائد کے بارہ میں اس کے راستے میں روک بن کر کھڑے نہیں ہوتے لیکن جب عملی قربانی کا سوال ہو، جب دیانت اور امانت کے قائم کرنے کا سوال ہو تو اس وقت سو دفعہ یہ روک بن کر کھڑے ہو جائیں گے۔یہ صرف چند مثالیں میں نے بیان کی ہیں ورنہ بیسیوں اعمال ایسے ہیں کہ انسان ان کے کرنے میں اس لئے کمزوری دکھاتا ہے کہ اس کے بیوی بچے اس کے ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔یہ نہیں کہ وہ عملاً اس کے ہاتھ پکڑ لیتے ہیں بلکہ ان کی محبت کا ہاتھ اسے نیکی کی باتوں پر عمل نہیں کرنے دیتا۔جب یہ سرکاری عدالتوں میں رشوت لینے کیلئے بیٹھتا ہے اُس وقت اسے اس کے بیوی بچے نہیں کہتے کہ تم رشوت لومگر ان کی شکل اس کے سامنے آجاتی ہے اور ان کی محبت میں مجبور ہو کر وہ رشوت لے لیتا ہے۔یا جب یہ ایک یتیم اور مسکین کی بند شکنی کرتا ہے تو اُس وقت اسے اس کے بیوی بچے یہ نہیں کہتے کہ تو بہ شکنی کر بلکہ ان کی محبت کی وجہ سے وہ بہ شکنی کرتا ہے اور یہ محبت اس کے دل ودماغ پر اس قدر غالب ہوتی ہے کہ اگر وہ خود بھی اسے اس بات سے روکیں اور منع کریں تب بھی وہ نہیں رکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے ذمہ داری مجھ پر ہے ان کو کیا پتہ کہ کس مصیبت سے روزی کمائی جاتی ہے۔تو انسانی اعمال کی درستی میں جذبات اور جذبات کو اُبھارنے والے رشتے روک بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے اعمال کی اصلاح عقیدہ کی اصلاح کی نسبت زیادہ مشکل