خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 378

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء اور میں اتنی عزت کا مالک نہیں رہوں گا جتنی عزت کا اب مالک ہوں۔غرض جب وہ خدا تعالی کا یا الله رسول کریم ﷺ کی رسالت کا قائل ہوتا ہے تو اُس کی عزت اُس کے راستہ میں حائل نہیں ہوتی ، نہ بیٹے حائل ہوتے ہیں لیکن جونہی وہ لڑکی کو ورثہ دینے لگتا ہے بیٹے کی شکل اُس کے سامنے آ جاتی ہے جو اُس سے رحم کی درخواست کر رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے باپ! مجھ پر رحم کر۔پس خدا ایک ہے کہنے کے نتیجہ میں اُس کے بیٹے کی شکل اس کے سامنے نہیں آتی لیکن جب اُسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اپنی بیٹی کو ورثہ دو تو فوراً اس کے بیٹے کی شکل اس کے سامنے آجاتی ہے اور وہ اسے یہ کہتا نظر آتا ہے کہ باپ ! تم نے سو ایکٹر میں بمشکل زندگی بسر کی تھی اب مجھ سے یہ کس طرح اُمید کر سکتے ہو کہ میں چھیاسٹھا ایکڑ میں گزارا کر سکوں گا۔پس لڑکی کو ورثہ دینے کا حکم سن کر بیٹے کی شکل اُس کے سامنے آجاتی اور عمل کے راستہ میں روک بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔یا مثلاً ظلم کا سوال ہے ایک آدمی مرجاتا ہے اس کی جائداد کا سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا ، اس کا ایک چھوٹا سا یتیم بچہ رہ جاتا ہے، زمیندار جس وقت ہل لے کر کھیت کے کنارہ پر پہنچتا ہے تو اُسے خیال آتا ہے کہ مجھے اپنی زمین میں سے دس من دانے آئیں گے میرے اتنے لڑکے ہیں اتنی لڑکیاں ہیں ، میری بیوی ہے، میرے عزیز رشتہ دار ہیں ان سب کے خرچ کا میں ذمہ دار ہوں دس من دانے تو کافی نہیں ہوں گے اس کی پر وہ کہتا ہے ساتھ کے کھیت کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں اس زمین کا مالک مر چکا ہے اور بچہ چھوٹا ہے اگر میں دوگز اور زمین میں اپنا ہل چلا لوں تو اس میں کیا حرج ہے دس من کی بجائے میرے کی دانے گیارہ من ہو جائیں گے اور اس طرح گزارہ اچھا ہو سکے گا۔یہ خیال آتے ہی اس کے بیل آگے چلنے لگ جاتے ہیں اور یہ بنہ شکنی کر کے دوسرے کی زمین کے ٹکڑے کو اپنی زمین میں ملا لیتا ہے۔مگر کبھی خدا تعالی پر ایمان لانا محمد ﷺ کو چار سو تسلیم کرنا یا قیامت اور جزاء اور سزا کے دن کو ماننا اس طرح اس کے عمل کے راستہ میں روک نہیں بنتا۔یا مثلاً دین کی خاطر چندہ دینے کا سوال ہے۔جب ہم اس سے سب سے بڑا چندہ مانگتے اور کہتے ہیں کہ اپنے دل سے سب بتوں کو نکال دے تو وہ اس کیلئے فوراً تیار ہو جاتا ہے لیکن جب چند پیسوں کا سوال آجائے تو اس کیلئے اتنا تیار نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ عقیدہ کے ساتھ کوئی مادی چیز نہیں دینی پڑتی لیکن چندہ دینے میں چونکہ مادی چیز دینی پڑتی ہے اس لئے فوراً اسے خیال آجائے گا کہ میں تو آگے ہی تنگی