خطبات محمود (جلد 17) — Page 368
خطبات محمود ۳۶۸ سال ۱۹۳۶ء بلکہ عادت ہے۔چونکہ انسانی جسم نے عادت ڈال لی ہے کہ جب ایسا موقع ہو گا میں پیچھے ہٹوں گا۔یہ بعد میں دیکھا جائے گا کہ خطرہ حقیقی تھا یا وہی اس لئے جسم فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ماں جو بچہ پر جان فدا کر نے والی ہوتی ہے وہ بھی اگر بچہ کے پیٹ کی طرف اُنگلی لے جائے تو وہ جھٹ پیچھے ہے گا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جسم نے عادت ڈال لی ہے کہ ہوشیار رہنا چاہئے۔تو غیر ارادی افعال کا نام عادت ہے لیکن عقیدہ غیر ارادی نہیں ہو سکتا۔عمل چونکہ اکثر غیر ارادی ہوتے ہیں اس لئے ہر شخص کو کوئی نہ کوئی عجیب عادت پڑ جاتی ہے کسی کو ہاتھ ہلانے کی ، کسی کو کندھا، کسی کو سینہ، کسی کو ناک کسی کو پاؤں ہلانے کی عادت ہوتی ہے، کسی کو اور کوئی عادت ہوتی ہے۔غرض جسم میں مختلف حرکات کا پیدا ہوتے رہنا عادت کے طور پر ہر ایک انسان کے ساتھ ا لگا ہوا ہے اور اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اعمال میں عادات کا بہت دخل ہے۔مثلاً شراب یا افیون کی عادت ہے کہ ایک شخص یہ قربانی تو کر لیتا ہے کہ تین خداؤں کی جگہ ایک خدا کو مان لے اور یہ نہیں ہوگا کہ دوسرے دن عادتاً اسے تین خداؤں کا خیال آئے مگر افیون کھانے کیلئے اُس کے اندر ضر ور خواہش پیدا ہو گی حالانکہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں یہ کتنی معمولی چیز ہے وہ ایک کے مقابلہ میں دو خداؤں کو چھوڑ دے گا مگر افیون کی گولی کی قربانی نہیں کر سکے گا۔ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے زمیندار ہیں جنہوں نے بھائیوں کو چھوڑ دیا ، ماں باپ کو چھوڑ دیا، بیویوں کو چھوڑ دیا اور بیویوں نے خاوندوں کو چھوڑ دیا، قیمتی سے قیمتی چیزوں کو ترک کر دیا مگر حقہ کی نال کو نہیں چھوڑ سکے۔جب وقت آتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں پیٹ پھولنے لگتا ہے۔اسی طرح چائے کی عادت گو اس سے کم ہے مگر جسے ہو وہ وقت آنے پر پاگلوں کی طرح پھرتا ہے۔پٹھان کتنی غیرت والے ہوتے ہیں اور کشمیریوں کو ادنی سمجھتے ہیں مگر مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم ایک پہاڑ پر جارہے تھے میرے ساتھ ایک پٹھان دوست تھے جنہیں نسوار کھانے کی عادت تھی مگر وہ اپنی ڈبیا گھر بھول آئے تھے۔راستہ میں ایک مزدور کشمیری آرہا تھا پٹھان دوست نے اُس کشمیری سے جس کی طرف دوسرے وقت میں وہ منہ کرنا بھی پسند نہ کرتے اور جو کندھے پر لکڑیاں اٹھائے ہوئے آ رہا تھا نہایت لجاجت سے کہا کہ اے بھائی کشمیری ! اے بھائی کشمیری جی ! اے بھائی جی! آپ کے پاس نسوار ہے؟ مجھے یہ سن کر بے اختیار ہنسی آگئی کہ جو شخص تکبر سے گردن