خطبات محمود (جلد 17) — Page 325
خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۶ء میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا کیونکہ رتبہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے اور عزت وہی ہے جو اُس کی طرف سے عطا ہو۔غرض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو مساجد میں نہیں آتے لیکن انجمنیں تو بن گئی ہیں مگر ایسے لوگوں کی کوئی نگرانی نہیں ہوتی اور نہ اُن کی رپورٹیں میرے پاس آتی ہیں۔سال بھر سے زیادہ ہونے لگا ہے جب یہ کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں مگر ابھی تک ایک کام میں بھی اصلاح نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے اصلاح کیا کرنی تھی۔ان میں تو اتنی ہمت بھی پیدا نہیں ہوئی کہ وہ میرے پاس رپورٹ کرتے حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ لوگ جو مسجدوں میں نماز کیلئے نہیں آتے اُن کا پتہ لگاتے اور پھر پانچ سات آدمیوں پر مشتمل وفد بناتے اور جس کے متعلق یہ ثابت ہوتا کہ وہ اکثر ناغہ کرتا ہے اور مسجد میں نماز کیلئے نہیں آتا اس کے پاس وہ پانچ سات آدمی مل کر جاتے اور اس سے دریافت کرتے کہ وہ کیوں مسجد میں نہیں آتا۔اگر ستی کی وجہ سے وہ مسجد میں نہیں آتا تو اسے آئندہ با قاعدہ مسجد میں نماز پڑھنے کی تاکید کی جاتی۔اس پر بھی اگر اس کی اصلاح نہ ہوتی تو اس کی رپورٹ میرے پاس کرتے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ پریذیڈنٹ اور سیکرٹری اس پہلو سے بالکل غافل رہے ہیں۔اصل مضمون میرا اور ہے مگر میں ضمنی طور پر مساجد کے مخلص مقتدیوں سے کہتا ہوں جن کے دل میں اسلام اور احمدیت کا درد ہے اور جو چاہتے ہیں کہ اسلام اور احمدیت ترقی کرے کہ اگر ایک مہینہ کے اندر اندر ایسے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری اپنی اصلاح نہ کریں تو وہ ایک مہینہ کے اندر ان پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو برخواست کر دیں اور کسی اور کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بنالیں۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کیلئے بڑے پایہ کا ہونا شرط نہیں۔معزز وہ ہے جو قربانی کرے اور اللہ تعالیٰ کے دین کا درد اپنے دل میں رکھے۔اگر رسول کریم ہے اَن پڑھ ہوتے ہوئے دنیا کے معلم اور استاد بن سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کے اتباع میں ان پڑھ ہوتے ہوئے دنیا میں عظیم الشان کام کر کے نہ دکھا سکیں۔پس یہ ضروری نہیں کہ پریذیڈنٹ یا سیکرٹری اُسے بنایا جائے جو پڑھ سکتا ہو بلکہ اگر ایک متقی ان پڑھ ہے تو اس کو ہی اپنا چی پریذیڈنٹ بنالیں اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ سو دو سو یا چار سو ماہوار آمد رکھنے والا ہو۔بیشک و پانچ روپیہ ماہوار کمانے والا ہو، بے شک وہ کنگال ہو مگر کام کرنے والا ہو اس کو تم پریذیڈنٹ بنا لو۔۔