خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 312

خطبات محمود ۳۱۲ سال ۱۹۳۶ء طرف سے تو حکومت نے کانوں میں روئی ٹھونسی ہوئی ہے ، وہ بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دجال، کذاب، شرابی ، عیاش اور زانی لکھتا ہے لیکن حکومت کو ذرا احساس نہیں ہوتا کہ ایک قانون ہے جو اس نے خود بانیانِ مذاہب کی عزت کے تحفظ کیلئے بنوایا ہوا ہے وہ کہاں گیا۔ان حالات میں سوائے اس کے کہ ”مجاہد اور بعض افسروں میں سمجھوتہ ہے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔دشمن کی جس قسم کی شرارت کر رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اُسے بعض افسروں کی انگیخت اور سہارا ہے لیکن اگر آپ لوگ اپنی اصلاح کر کے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں تو ایسے سمجھوتے سب کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائیں گے۔ایسے بددیانت حاکموں کو بھی ضرور سزا ملے گی ، اُن کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی ، خواہ اللہ تعالیٰ اُن سے بڑے افسروں کے ذریعہ ان کو سزا دے یا آسمان سے حکم جاری کرے۔لیکن اگر ہماری طرف سے سستی اور غفلت ہو تو اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑ کنے کی کوئی وجہ نہیں اور وہ انتظار کرے گا جب تک کہ ہم اپنی اصلاح نہ کر لیں یا ہماری جگہ کوئی اور قوم کھڑی نہ ہو جائے۔جب تک ہم اپنے نفسوں میں تبدیلی نہ کریں گے، جب تک جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی کیلئے تیار نہ ہوں گے، ہستیوں اور غفلتوں کو ترک نہ کریں گے اُس وقت تک کامیابی محال ہے۔ابھی ایک مقدمہ میرے پاس آیا ہے اور عمر بھر میں میرا یہ پہلا تجربہ تھا کہ فریقین کی باتیں اتنی متضاد تھیں کہ ایک اُن میں سے ضرور خطرناک جھوٹ بول رہا تھا۔احمدیوں کے متعلق یہ میرا پہلا مشاہدہ تھا کہ ایک فریق خطر ناک جھوٹ بول رہا تھا اور ایک موقع پر تو فریقین نے اقرار کر لیا کہ فلاں وقت وہ دونوں جھوٹ بول چکے ہیں۔پس جب تک اپنی اصلاح نہ کرو گے عزت نصیب نہیں ہوگی ، جب تک آپس میں صلح نہ کرو ، محبت پیدا نہ کرو ، محنت کی عادت نہ ڈالو، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی کس طرح امید کر سکتے ہو۔پس مالی اور جانی قربانیوں کیلئے خود بھی تیار ہو جاؤ اور اولادوں کو بھی قربانی کیلئے تیار کرو۔اُن کو سختی ، محنت اور مشقت کا عادی بناؤ ، ایثار اور سچائی کی عادت ڈالو، ہماری جماعت کو تو سچ پر اس طرح قائم ہونا چاہئے کہ اگر احمدی کوئی بات کہہ دے تو لوگ خاموش ہو جا ئیں کہ بس یہی سچی ہے۔یہ دن لے آؤ پھر دیکھو کس طرح فتح قریب آتی ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ قریب بھی ہے اور دور بھی ، اسی طرح مؤمن کی کامیابی دور بھی ہوتی ہے اور