خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 296

خطبات محمود ۲۹۶ سال ۱۹۳۶ء ہاں بعض باتیں لطیفہ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور انہیں دیکھ کر ضرور افسوس ہوتا ہے۔چنانچہ اسی سلسلہ میں ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ ان منافقین میں سے ایک ایسا منافق بھی ہے جو اس ملک کا رہنے والا ہے جس نے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید جیسا نیک انسان جو حضرت ابو بکر کی مانند تھا ہمیں عطا کیا مگر افسوس اسی ملک نے اس وقت ایک مسیلمہ کذاب بھی پیدا کر دیا ہے۔گویا اس ملک نے ایک ہماری طرف گوہر پھینکا اور ایک اُس نے زہر پھینکی۔افغانستان نے ہمیں ایک صدیق دیا اور ایک ہمیں مسیلمہ کذاب دیا۔اس میں بھی شاید کوئی خدائی مصلحت ہوتی ہے کہ ہر قوم میں کوئی نہ کوئی نظر بقو ہوتا ہے تا اس قوم کے لوگ تکبر نہ کرنے لگ جائیں اور فخر اور خیلاء کے خیالات میں مبتلاء نہ ہو جائیں۔کہتے ہیں مور کے پاؤں نہایت بدصورت ہوتے ہیں جب وہ ناچ رہا ہوتا ہے اور اپنے پروں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا ہوتا ہے تو اچانک اُس کی نظر اپنے پاؤں پر پڑ جاتی ہے اور وہ ناچنا بند کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ بھی شاید اسی لئے قوموں میں بعض کے باعث ننگ وجود بناتا ہے تا وہ جب اپنی قوم کے بعض ممتاز افراد کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں تو اپنے پاؤں پر کوڑھ کی حالت کو دیکھ کر تکبر میں مبتلاء ہونے سے محفوظ رہیں۔یہی افغانستان کی حالت ہے اس نے بھی ایک صدیق پیدا کیا اور ایک مسیلمہ کذاب پیدا کیا مگر بہر حال ان فتنوں کے لی مقابلہ کی ہمیں فکر کرنی چاہئے تا وہ جو خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں پورے ہوں اور دشمن اپنی تمام تدابیر میں خائب و خاسر رہے۔اسی لئے میں نے جماعت سے کہا ہے کہ وہ دعائیں کرے اور اللہ تعالیٰ سے التجاء کرے کہ وہ خود ان مشکلات و مصائب کو ہٹائے۔اس ہفتہ کا روزہ آخری روزہ ہو گا جن کو توفیق ملے گی وہ تو اس دن دعا کریں گے ہی مگر میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس کے بعد بھی دُعاؤں میں لگی رہے اور بیرونی دشمنوں کے جھوٹوں اور کذب بیانیوں کو دیکھتے ہوئے اور دوسری طرف منافقین کی قبیح حرکات کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتی رہے کہ وہ ہمارا مالک اور آقا بیرونی دشمنوں کے حملوں سے بھی ہماری جماعت کو محفوظ رکھے اور اندرونی منافقین کی فتنہ آرائیوں سے بھی ہماری جماعت کو بچائے اور دونوں قسم کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر کے ہمارے راستہ سے ہٹادے یا انہیں ہدایت دے کر ہمارا بھائی بنا دے۔