خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 290

خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۶ء اس کا باپ اس کے برخلاف اس امر پر مباہلہ کرنے کو تیار ہوگا۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کے نزدیک مجھے اس قدر جادو آتا ہے کہ جب آپ لوگ صبح کی نماز میں آتے ہی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں نماز پڑھانے کیلئے مسجد میں آیا ہوں تو دراصل وہ میں نہیں ہوتا صرف آپ کی لوگوں کو غلط نہیں ہو جاتی ہے، اسی طرح ظہر کے وقت جب آپ لوگ آتے ہیں اور مجھے نماز کی پڑھاتے ہوئے دیکھتے ہیں تب بھی میرا جادو قائم ہوتا ہے اور آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں آپ کو نماز پڑھا رہا ہوں حالانکہ حقیقت میں میں اُس وقت گھر بیٹھا ہوا ہوتا ہوں ، پھر عصر کی نماز میں جب آپ لوگ آتے ہیں اور مجھے نماز پڑھاتے دیکھتے ہیں تو یہ بھی ایک جادو ہوتا ہے، یہی حال مغرب اور عشاء کا ہوتا ہے آپ لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ میں آپ کو نماز پڑھا رہا ہوں حالانکہ اس منافق کے قول کے مطابق میں اُس وقت گھر بیٹھا ہوتا ہوں۔یہ جادو غالبا احرار کی طرف سے ہی ہوتا ہوگا ہمیں تو اس قسم کا جادو نہیں آتا۔ہاں ان کے سیکرٹری مسٹر مظہر علی اظہر ہیں اور ان کے ہاں کی ایسا جادو پایا جاتا ہے۔مظہر علی صاحب اظہر شیعہ ہیں اور شیعوں کی نہایت ہی معتبر کتاب کافی میں لکھا ہے کہ ان کے امام صاحب نے ایک دفعہ کہا سوائے شیعوں کے جتنے لوگ ہیں سب حرامزادے ہیں۔کسی نے کہا وہ حرامزادے کس طرح ہو گئے؟ روز لوگوں کے نکاح ہوتے ہیں اور ان نکاحوں کے بعد بچے پیدا ہوتے ہیں۔ان کے امام صاحب کہنے لگے تمہیں پتہ نہیں یہ سب دھو کے کی بات ہے اصل بات یہ ہے کہ جس وقت کوئی سنی یا مجوسی یا عیسائی اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے تو شیطان اس کی گردن پکڑ کر اسے الگ کر دیتا ہے اور خود اُس کا ہم شکل بن کر اس کی بیوی سے ہم صحبت ہو جاتا ہے بیوی سمجھتی ہے کہ میرا خاوند مجھ سے ہم بستر ہے مگر ہوتا دراصل شیطان ہے اس طرح شیعوں کے سوا جس قدر لوگوں کی اولاد ہوتی ہے سب ولد الزنا ہوتی ہے۔پس اگر احرار کے ہاں کوئی ایسا تماشہ دکھایا جاتا تو تعجب کی بات نہ تھی اور اسے سچ سمجھا جا سکتا تھا مگر ہمارے ہاں تو ایسی کوئی چیز نہیں۔بعض منافقوں نے یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ خود مغربیت کے خلاف تعلیم دیتے ہیں مگر اپنی بیٹیوں کو انگریزی پڑھاتے ہیں اور اس کے لئے استانی رکھی ہوئی ہے۔حالانکہ جہاں میں نے مغربیت کے خلاف تقریر کی تھی وہیں اس بات کا جواب بھی دے دیا گیا تھا پھر لڑکیوں کیلئے استانی