خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 275

خطبات محمود ۲۷۵ سال ۱۹۳۶ء گنا جائے تو کتنے ہیں جو حسین کہلاتے ہیں۔اگر تعداد معلوم کی جائے تو حسین نام رکھنے والے لاکھوں نکل آئیں گے اور ہر زمانہ میں نکل آئیں گے پھر وہ سارے کے سارے سوائے خوارج کے نام لیں گے تو امام حسین ہی کہیں گے اور حضرت کہہ کے ہی پکاریں گے۔تو کسی مخالف کی مخالفت کی دنیا میں روحانیت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ہاں مخالفت کرنے والا تھوڑی دیر کیلئے اپنے دل کو خوش ضرور کر لیتا۔میں نے کہا ہے اس زمانہ میں ہمارے خلاف دونوں قسم کے مخالف کھڑے ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔وہ لوگ بھی جھوٹ کے ہتھیار سے حملہ کر رہے ہیں جو بیرونی دشمن ہیں اور وہ بھی جو اندرونی دشمن یعنی منافق ہیں۔منافق جب کبھی دیکھتا ہے کہ جماعت پر باہر سے حملہ ہو رہا ت ہے تو وہ اپنا سر اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔چونکہ اس زمانہ میں ہماری جماعت کی شدت سے مخالفت ہورہی ہے اس لئے کئی منافقین نے جو پہلے دبے ہوئے تھے آج سر اٹھا نا شروع کر دیا ہے اور وہ اپنی تنظیم کی فکر میں لگ گئے ہیں لیکن منافق کی تنظیم کو ئی تنظیم نہیں ہوا کرتی اور نہ مخالف کا حملہ روحانی جماعتوں کیلئے کوئی نقصان رساں حملہ سمجھا جاسکتا ہے۔جھوٹ تو ہمارے دشمنوں کی طرف سے ہمیشہ بولا ہی جاتا ہے اور اگر ان کے جھوٹوں کو گنا جائے تو ان کا شمار ناممکن ہو لیکن بعض دفعہ تو وہ ایسا کھلا جھوٹ بولتے ہیں کہ حیرت آ جاتی ہے کہ دشمن جب جھوٹ بولنے پر آجائے تو وہ کس طرح سو فیصدی جھوٹ بول جاتا ہے۔جب انسان خود سچائی کا پابند ہو تو خیال کرتا ہے کہ کوئی شخص آخر کتنا جھوٹ بول سکتا ہے، پانچ ، دس، پندرہ یا بیس فیصدی ، اس سے زیادہ جھوٹ وہ کیا بولے گا۔چنانچہ میرا اپنا یہی خیال تھا میں سمجھا کرتا تھا کہ کوئی آخر کتنا جھوٹ بول سکتا ہے۔اگر اس نے سو باتیں بیان کی ہیں تو ممکن ہے کہ ان میں سے پانچ جھوٹ ہوں اور پچانوے بیچ۔یا دس جھوٹ ہوں اور نوے بیچ ، اس سے بڑھ کر تو جھوٹ بول نہیں ہے سکتا لیکن جب آہستہ آہستہ میرا تجربہ بڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ پچاس ساٹھ فیصدی جھوٹ بھی لوگ بول لیا کرتے ہیں اور اب اس نئی جنگ میں جو احرار سے شروع ہے مجھے پتہ لگا کہ ہمارے دشمنوں کی کی طرف سے سو فیصدی جھوٹ بولا جاتا ہے بلکہ اگر ان کے امکان میں ہوتا کہ سو فیصدی سے بھی زیادہ جھوٹ بول سکتے تو وہ ضرور زیادہ جھوٹ بولنے کی کوشش کرتے۔پھر ایسا کھلا جھوٹ بولا جاتا